سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 558 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 558

500 صاحب کو گھر پہنچا آویں۔میں ڈنڈا اٹھا کر ساتھ چل پڑا راستہ میں احراری آوازے کستے رہے مگر حضرت کی دعا کی برکت سے کسی کو حملہ کی جرات نہ ہوئی۔آخر میں ان کو مولوی صاحب کے گھر پہنچا کر بخیریت جب واپس کوٹھی پر آیا تو دیکھا حضور مع خدام کوٹھی کے برآمدہ میں کھڑے ہیں اور افسردہ نظر آتے ہیں جو نہی میں سامنے آیا حضور الْحَمدُ لِلہ کہہ کر اطمینان کا سانس لے کر اندر چلے گئے۔میں حیران تھا یہ کیا ماجرا ہے۔حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب بے تکلف دوست تھے۔عرض کی حضرت مع خدام کیوں برآمدہ میں افسردہ کھڑے تھے اور میرے آنے پر اَلْحَمْدُ لِلہ کہہ کر اندر چلے گئے۔ڈاکٹر صاحب نے فرمایا۔حضرت سخت متفکر تھے اور دعا میں مصروف تھے کسی نے مشہور کر دیا تھا کہ ڈاکٹر شاہ نواز کو راستہ میں شہید کر دیا گیا ہے مگر آپ کو زندہ سلامت جب دیکھا تو حضور نے الْحَمْدُ لِلَّهِ کہا کہ غم دور ہو گیا ہے۔اکتوبر ۱۹۳۸ء میں عاجز سات سال کے بعد افریقہ سے واپس آیا اور جس دن میں بمبئی جہاز سے اُترا اُسی دن حضور کراچی سے بمبئی تشریف لائے تھے۔صحت کے لئے بحری سفر کیا گیا تھا اور آگے پھر حیدر آباد، دہلی وغیرہ جانے کا پروگرام تھا۔جس کے نتیجہ میں ”سیر روحانی“ کا شاہکار وجود میں آیا۔میں Alexandre dockos پر اترا اور حضور مع خدام Ballord Pier پر تھے۔دونوں میں کافی فاصلہ تھا وقت کم تھا حضور جلدی ٹرین پر سوار ہو رہے تھے اور خاکسار بھی کسٹم سے فارغ نہ ہوا تھا۔حضور کو میرے آنے کی اطلاع کسی طرح ہو گئی عاجز پیغام ملتے ہی روانہ ہو گیا۔حضور نے از راہ شفقت میری خاطر کافی دیر انتظار کیا جب میں سامنے آیا تو حضور کار سے نکل کر مجھ سے بغل گیر ہوئے۔عاجز کو بالکل ہوش نہ تھا کہ کہاں ہوں، دنیا اور مارفیھا کی محبت سرد ہو گئی اور سوائے حضور کی ذات کے کسی شے کی حاجت نہ رہی۔عاجز نے عرض کی کیا ساتھ جانے کی اجازت ہے؟ فرمایا والدہ سات سال سے منتظر ہیں ان کا زیادہ حق ہے عاجز پھر سیدھا قادیان کے لئے ٹرین پر سوار ہو گیا۔جب ہوسٹل تحریک جدید کھولا گیا تو عاجز نے ۱۹۳۶ء میں اپنے دو بڑے