سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 557
499 الگ الگ گیٹوں سے باہر نکلنا پیشگوئی بن گئی۔چنانچہ شیخ احسان علی صاحب کو تھرڈ کے گیٹ پر روک لیا گیا۔میں دوسرے گیٹ سے نکلا ورنہ ہم دونوں روک لئے جاتے۔عاجز نے محنت سے کام کیا، ہمدردی کی اور کام کی رپورٹ ارسال کر دی۔ڈاک لیٹ (بوجہ سنسر Censor) آئی۔جب میرا خط پہنچا تو میں خود بھی حضور کی خدمت میں حاضر تھا۔ایڈریس دیکھ کر فرمایا آپ کا خط ساتھ ہی آیا ہے۔حضور کو اتنی مشق تھی کہ بار بار لکھنے والوں کے دستخط سے بھی حضور پہچان لیا کرتے تھے کہ اندر کس کا خط ہے۔جولائی ۱۹۳۱ء میں جب شملہ میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے جنم لیا تو اُس وقت اس پہلی میٹنگ میں عاجز بھی موجود تھا۔اجلاس سر شفیع کی کوٹھی میں ہوا اور میں مہمانوں کو Receive کرتا تھا خواجہ حسن نظامی، سر محمد اقبال بھی موجود تھے۔میرے سامنے انہوں نے متفقہ طور پر حضور سے عرض کی مرزا صاحب! آپ ہی اس کمیٹی کا صدر بننے کے اہل ہیں جس طرح چاہیں کام کریں ہم اطاعت کریں گے۔درد صاحب (عبدالرحیم صاحب ) اس کے سیکرٹری مقرر ہوئے تھے۔۱۹۳۱ء میں حضور کشمیر کمیٹی کے کام کے سلسلہ میں سیالکوٹ تشریف لے گئے عاجز بھی ساتھ گیا۔قیام آغا محمد صفدر کی کوٹھی پر تھا، احراری ارد گرد کے کوٹھوں پر شور وغوغا کرتے رہے،حضور کی مصروفیت کا یہ عالم تھا کہ ۱۲ گھنٹوں کے بعد حضور صرف پیشاب کرنے کے لئے اُٹھے۔ایک کشمیری لیڈر نے الگ ملاقات کی خواہش کی اور حضور مکان کی چھت پر تشریف لے گئے اردگرد احراری تھے۔عاجز ڈانگ لے کر ساتھ پہرہ اور حفاظت کے لئے چلا گیا اور دور سے دیکھتا رہا تا خلوت میں مداخلت نہ ہو۔شکر ہے کسی نے حملہ کی ہو۔جرأت ہی نہ کی ورنہ میری کیا طاقت تھی کہ حفاظت کر سکتا، ایک دن، رات کافی دیر ہو گئی اور میر واعظ یوسف شاہ صاحب نے حضرت سے ملاقات کے بعد واپس گھر جانا تھا وہ ابراہیم صاحب سیالکوٹی کے ہاں مقیم تھے۔حضور نے اس خیال سے کہ سیالکوٹ میرا وطن ہے فرمایا ڈاکٹر شاہ نواز کو ساتھ بھیجو کہ میر واعظ