سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 556
498 ہے۔بہت سوچا اور دعا کی الہی کوئی جائز صورت پیدا کر دو کہ تبرک بھی رہے اور چوری بھی نہ ہو۔حضور سے درخواست کرنے کی جرات نہ تھی کہ تحفہ ہی دے دیں۔کیونکہ حضور کی لائبریری کی اہم کتاب تھی جو واپس کرنی ضروری تھی۔پھر میں نے انگلستان سے وہی کتاب منگوائی اور اس پر اپنے ہاتھ سے تمام وہ نوٹ لکھے جو حضور نے اپنی کتاب پر لکھے ہوئے تھے اور حضور کی خدمت میں نئی کتاب پیش کر کے عرض کی حضور کتب کا تبادلہ کر لیں حضور نے فرمایا نوٹوں کا مقابلہ مولوی انور صاحب کر کے رپورٹ کریں کہ اندراج درست اور مکمل ہیں۔حضور نے خوشی سے اپنی کتاب تبادلہ میں دے دی اور اس طریق کو پسند فرمایا۔۱۹۲۵ء میں میری شادی کے لئے ایک جگہ تجویز ہوئی مہر ۲ ہزار تجویز ہوا میری مالی حالت اُس وقت کمزور تھی حضور سے مشورہ لیا فرمایا۔مہر بہت زیادہ ہے۔میری بیویوں کا صرف ایک ہزار ہے تم دو ہزار کس طرح دے سکتے ہو۔( اُس وقت میری تنخواہ صرف ۵۰ا تھی۔اور یہ مہر ۶ ماہ بلکہ سال کی اوسط آمد سے بھی زیادہ تھا ) جب میں افریقہ میں تھا تو میری والدہ مرحومہ حضور کی خدمت میں بار بار جا کر عرض کرتیں کہ بچے کی سلامتی کے لئے دعا کرتے رہیں۔فرمایا وہ مجھولنے دیتا ہی نہیں اس باقاعدگی سے خط لکھتا رہتا ہے۔۱۹۳۱ء میں جب جموں میں ڈوگرہ راج نے مسلمانوں کا کشت و خون کیا اور تحریک آزادی کو کچلنا چاہا تو حضور نے ایک میڈیکل مشن میری سرکردگی میں جموں بھیجا۔میرے ساتھ شیخ احسان علی صاحب بھی تھے۔حضور نے مندرجہ ذیل ہدایات دیں۔ا۔سفر سیکنڈ کلاس میں کرنا۔۲۔الگ الگ گیٹوں سے باہر نکلنا۔۳۔رپورٹ با قاعدہ ارسال کرنا۔۴۔سیاسیات سے الگ رہنا۔۵۔میرا ایک دوسرا نام پسند کیا جو محمد تقدیس خاں ہے۔۶۔خاص رپورٹ کو ایک غیر مرئی سیاہی سے لکھنے کی ہدایت دی۔انگریز افسر کے نام ایک چٹھی دی تا وہ مزاحم نہ ہوں۔حضور کی ہدایت کہ