سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 533
475 فرماتے کہ آپ کے سامنے دستر خوان پر کوئی چیز ہو اور دوسروں کے سامنے نہ ہو آپ نے عملاً سبق دیا ہے کہ کس طرح پر حق میزبانی اور خُلَّةٌ فِي الدِّينِ کے 66 حقوق ادا کئے جاتے ہیں۔(الفضل ۲۳ ستمبر ۱۹۲۴ء صفحه ۴) خدمت اسلام کے ایک اہم اور ضروری موقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے استخاروں، مشوروں اور لمبی سوچ و بچار کے بعد حضور یورپ کے سفر پر تشریف لے گئے۔احباب جماعت جس طرح اس عارضی جُدائی پر بے قرار و بے چین ہوئے اس کا اندازہ ذیل میں پیش کئے گئے جذبات سے ہوتا ہے۔یادر ہے کہ سفر یورپ کا ذکر تو پہلے کیا جا چکا ہے۔مگر یہاں اس با برکت سفر کا ایک اور پہلو۔بہت ہی پیارا پہلو۔پیش کیا گیا ہے۔با بوسراج الدین صاحب سٹیشن ماسٹر لکھتے ہیں :۔” میرے آقا ! ہم دور ہیں مجبور ہیں۔اگر ممکن ہوتا تو حضور کے قدموں کی خاک بن جاتے تا کہ جدائی کے صدمے نہ سہتے۔آقا! میں چار سال سے دارالامان نہیں گیا تھا مگر دل کو تسلی تھی کہ جب چاہوں گا حضور کی قدم بوسی کر لونگا لیکن اب ایک ایک دن مشکل ہو رہا ہے۔اللہ پاک حضور کو بخیر و عافیت مظفر ومنصور جلدی واپس لائے۔“ ( الفضل ۱۷؍جنوری ۱۹۲۵ ء صفحه ۴ ) منشی عبد العزیز صاحب پٹواری ضلع گورداسپور نے لکھا: حضور کی علالت طبع اور سفر کی تکالیف اور کھانے کا وقت پر میسر نہ ہونا اور کمزوری جسم و نیند دیگر امور متعلقہ سفر کی حالت پڑھ کر دل کو بہت صدمہ ہوتا ہے لیکن جناب الہی میں بحالی صحت کے لئے تضرع اور خشوع سے دعا کے بغیر چارہ نہیں ہے۔انشَاءَ اللہ جماعت میں اخلاص اور خشیت حضور کے اس سفر سے نمایاں معلوم ہوتی ہے خدا تعالیٰ اور بھی اخلاص میں ترقی دیوے۔“ شیخ عبد الغفور صاحب تاجر کتب گجرات نے کسی مولوی کی سخت بیانی کا ذکر کرنے کے بعد لکھا : - ان کو ہمارے دلوں کا کیا حال معلوم ہے۔کاش! وہ ہمارے دلوں کے حالات سے ذرہ بھر بھی واقف ہوتے۔۔۔ہمارے دل کسطرح اپنے پیارے خلیفتہ المسیح کی یاد میں ہر وقت ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہے ہیں،