سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 532 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 532

474 پڑوسی مسافروں میں تقسیم فرمایا۔“ ایسا ہی ایک اور واقعہ بیان کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں :- جب ہم قدس سے دمشق کو روانہ ہوئے تو ایک اسٹیشن سماخ نامی آتا ہے۔وہاں گاڑی کچھ زیادہ عرصہ ٹھہرتی ہے۔سٹیشن پر ایک مختصر سا ریسٹورنٹ ہے اور اس میں عام طور پر کچھ روٹی ، انڈے اور ڈبوں میں بند پھل وغیرہ ملتے ہیں چونکہ گاڑی میں مسافر زیادہ تھے روٹی ختم ہو گئی گو بعد میں روٹی باہر سے آگئی ہماری پارٹی جو تھرڈ کلاس میں تھی اس کے لئے سب سے پہلے کھانے کے خریدنے کے لئے نقدی بھجوائی گئی حضرت جب کھانا کھانے لگے تو دریافت کیا کہ دوسرے احباب کو برف دے دی گئی ہے۔جب جواب نفی میں ملا تو آپ نے فرمایا کہ پہلے ان کو دے کر آؤ حضرت کے طفیل ہم تو بہت آرام سے سفر کر رہے ہیں۔غرض آپ نے پسند نہیں فرمایا کہ جب تک دوسروں کو برف نہ پہنچ جاوے خود سے استعمال کریں۔چنانچہ ہمارے پاس برف بھیجی گئی یہ دوسروں کے آرام کو اپنے آرام پر مقدم کرنے کا ایک جذبہ ہے جو قدرتی طور پر حضرت امام کے عمل میں ہم مشاہدہ کرتے ہیں اور جو ہمارے ایمان کی ترقی کا الفضل ۱۶۔ستمبر ۱۹۲۴ ء صفحہ ۷۔۸) مکرم ڈاکٹر صاحب کی ہی اپنے ہم سفر ساتھیوں کے آرام کا خیال رکھنے کے متعلق یہ روایت بھی ہے کہ :- اٹلی میں قریب قریب ہم کو دو ہوٹلوں میں اترنا پڑا اس لئے کہ ایک ہوٹل میں کھانا پکانے کے لئے مشکل تھی اس لئے ایک دوسرا ہوٹل چند احباب کے لئے لینا پڑا تاکہ وہاں کھانا پک سکے۔اس وجہ سے چونکہ کھانا دو جگہ کھایا جاتا حضرت اقدس کا یہ معمول ہو گیا کہ کھانا کھانے سے پیشتر ضرور دریافت فرما لیتے کہ سب نے کھا لیا ہے ایک روز آپ کو اطلاع ہوئی کہ بعض احباب کے لئے سالن کم ہو گیا اگر چہ یہ معمولی امر تھا مگر آپ کی طبیعت پر اس کا یہاں تک اثر تھا کہ دوسری صبح کو جب آپ کے سامنے کھانا آیا تو آپ نے خاص طور پر ہدایت دی اور تنبیہ کی کہ کبھی ایسی غلطی آئندہ نہ ہو آپ ہرگز اسکو بھی پسند نہ موجب ہے۔“