سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 528 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 528

470 نے آتے ہی اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہا اور کہا چلئے کھانا تیار ہے۔ہم حیران ہوئے کہ ان کو ہمارے پروگرام کا کس طرح علم ہو گیا۔اس کے بعد مجھے جب بھی بمبئی جانے کا اتفاق ہوا سیٹھ صاحب بھی بمبئی پہنچ جاتے اور قیام کے دوران میں میرے ساتھ رہتے۔اس عرصہ میں ان کی بیویوں کے میری بیویوں سے اور ان کی بچیوں کے میری بچیوں سے اور میرے بچوں کے ان کے بچوں سے تعلقات ہو گئے اور آہستہ آہستہ یہ تعلقات ایک گھر کی مانند ہو گئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے بچوں اور بچیوں میں بھی بہت اخلاص ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو سلسلہ کی خدمت کرنے کی توفیق دے رہا ہے۔ان کے بڑے لڑکے محمد اعظم صاحب سیکرٹری مال ہیں اور جماعت کے معیار کو بلند کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔دوسرے بیٹے معین الدین صاحب ہیں وہ حیدر آباد میں خدام الاحمدیہ کے قائد ہیں اور تیسرا بچہ ابھی چھوٹا ہے اور تعلیم حاصل کر رہا ہے اور ان کی لڑکیوں کے میری بیوی امتہ الحی مرحومہ سے بھی بہت تعلقات تھے۔“ (الفضل ۲ مئی ۱۹۴۷ ء صفحه ۲ ) ایک نائیجیرین احمدی کے اخلاص و عقیدت کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :- میں بیماری میں یورپ گیا تو افریقہ کی جماعتوں میں سے لیگوس کے لوگوں نے اپنا ایک رئیس ہوائی جہاز سے لنڈن میری خبر پوچھنے کے لئے بھجوایا اس میں میرا اتنا ادب و احترام تھا کہ جب مجلس ہوتی تو وہ میرے پاؤں کے قریب آ کر بیٹھ جاتا۔انگریزوں میں اس کا بڑا احترام تھا جس مجلس میں انگریز آتے وہ اسے اٹھا کر میرے پاس بٹھانا چاہتے لیکن وہ میرے پیروں میں آ کر بیٹھ جاتا اور کہتا یہ میری عزت کی جگہ ہے میں یہاں بیٹھوں گا۔میں بیماری میں بعض دفعہ گھبرا کر باہر کرسی پر بیٹھ جاتا تھا وہ باہر سے پھر کر آتا کسی بڑے آدمی یا وزیر سے مل کر آتا اور آکر میرے پاؤں کے قریب زمین پر بیٹھ جاتا میں اسے اٹھا کر کرسی پر بٹھانا چاہتا تو کہتا نہیں انہیں میری عزت اسی میں ہے کہ میں یہیں بیٹھوں۔سارا لنڈن اس کی تصویریں لیتا تھا۔بڑے بڑے وزراء اس سے ملتے تھے لیکن اس کی محبت کی یہ حالت تھی کہ وہ میرے پاؤں کے قریب بیٹھنا اپنی