سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 529
471 عزت تصور کرتا تھا۔“ الفضل ۲۸۔نومبر ۱۹۵۶ء صفحه ۶ ) جماعت کا ہر فرد جس طرح حضور کو چاہتا اور آپ کی خدمت کا موقع ملنے کو سعادت گردانتا تھا حضور اس پر خدا تعالیٰ کا شکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- مجھے ہمیشہ حیرت ہوا کرتی ہے اور میں اپنے دل میں کہا کرتا ہوں کہ الہی ! تیری بھی عجیب قدرت ہے کہ تو نے کس طرح لوگوں کے دلوں میں میری نسبت محبت کے جذبات پیدا کر دیئے کہ جب کبھی سفر میں باہر جانے کا موقع ملے اور میں گھوڑے پر سوار ہوں تو ایک نہ ایک نوجوان حفاظت اور خدمت کے خیال سے میرے گھوڑے کے ساتھ پیدل چلتا چلا جاتا ہے اور جب میں گھوڑے سے اترتا ہوں تو وہ فوراً آگے بڑھ کر میرے پاؤں دبانے لگ جاتا ہے اور کہتا ہے حضور تھک گئے ہوں گے۔میں خیال کرتا ہوں کہ میں تو گھوڑے پر سوار آیا اور یہ گھوڑے کے ساتھ پیدل چلتا آیا مگر اس محبت کی وجہ سے جو اسے میرے ساتھ ہے اس کو یہ خیال ہی نہیں آتا کہ یہ تو گھوڑے پر سوار تھے یہ کس طرح تھکے ہوں گے۔وہ یہی سمجھتا ہے کہ گویا گھوڑے پر وہ سوار تھا اور پیدل میں چلتا آیا۔چنانچہ میرے اصرار کرنے کے باوجود کہ میں نہیں تھکا میں تو گھوڑے پر آ رہا ہوں۔وہ یہی کہتا چلا جاتا ہے کہ نہیں حضور تھک گئے ہوں گے۔مجھے خدمت کا موقع دیا جائے اور پاؤں دبانے لگ جاتا ہے۔“ الفضل ۱۵ مارچ ۱۹۳۸ء صفحه ۴) از راہ قدردانی جماعت کے اخلاص و محبت کا ذکر اچھوتے انداز میں کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- ” میری اس دوسری بیوی کی وفات پر یا ان صدمات پر جو مجھے اور میرے خاندان کو ہوئے جن دوستوں نے اظہار ہمدردی کی ہے میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں گو ا ظہار ہمدردی سے کوئی کسی کے صدمے کو بدل نہیں سکتا لیکن اس کا اظہار ہمدردی تعلق اور محبت کو ضرور بڑھاتا ہے اور وہ ایک طرح سے تسلی کا موجب بھی بنتا ہے۔۔۔ان واقعات نے اس بات کو اچھی طرح ثابت کر دیا ہے کہ جماعت میں خدا کے فضل سے بڑی محبت اور اخلاص ہے اور ان