سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 517
459 جھانکتے ہوئے فرمایا ”صدیقہ ! تمہیں معلوم نہیں تمہارے ماسٹر صاحب دروازہ پر کھڑے ہیں فوراً آؤ۔سیدہ حضرت ام متین حضور کی چہیتی بیگم ساری جماعت کے لئے عزت و احترام کی مستحق پھر ان ذرہ نوازیوں اور ترجیجی سلوک کی وجہ سے جو وہ مجھ سے روا رکھتی تھیں اور رکھتی ہیں میرے لئے سراسر راحت اور عزت کا مجسمہ، قابلِ رشک شاگرد اور استاد کے لئے باعث صد افتخار جن کی خصوصی محبت اور توجہ میرے لئے سرمایہ حیات۔وو حضور نے جب یہ محسوس کیا کہ ان کا یہ ناچیز استاد ملنے کے لئے دروزاہ پر کھڑا ہے تو ان کو ایسی آواز اور ایسے لہجہ میں دروازہ پر بلا تاخیر پہنچنے کی ہدایت فرمائی جو حضور کا معمول نہ تھا۔اس سے میرے دل میں یہ بات گڑ گئی کہ حضور کے نزدیک اور حضور کے اہل کے نزدیک استادوں کا مقام کس قدر بلند ہے اور حضور ان کو کس قدر عزت واحترام کا مستحق سمجھتے ہیں۔اسی ضمن میں ایک واقعہ بہت ہی نمایاں ہے۔میری بچی عزیزہ امتہ القیوم جو مَا شَاءَ اللہ اب بی۔اے میں ہے کی پڑھائی شروع کروانے کا موقع آیا تو دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ حضور سے ”بسم اللہ“ کروائیں۔میں نے اس خواہش کا سیدہ ام متین سے اظہار کیا۔غالبا یہ ۵۲ ۱۹۵۳ء کی بات ہے۔میں ان دنوں سیدہ امتہ المتین کو پڑھانے جایا کرتا تھا حضور کی علالت اور مصروفیت کے پیش نظر سیدہ ام متین نے از خود ہی تجویز کی کہ اگر آپ پسند کریں تو حضور کی بجائے میں ہی بِسمِ اللہ کروا دیتی ہوں اور یہ فیصلہ ہو گیا کہ میں اگلے روز بچی کو ساتھ لے آؤنگا۔میں سیدہ امتہ المتین کو پڑھا کر ابھی محترم صاحبزادہ مرزا انور احمد صاحب کی کوٹھی پر ( جو ان دنوں جب ابھی سکول اور ملحقہ کوارٹرز کی تعمیر نامکمل تھی اور ربوہ میں مکانات کی قلت کے پیش نظر حضور نے از راہ شفقت مجھے عارضی طور پر رہائش کے لئے وہ کوٹھی دے رکھی تھی ) پہنچا ہی تھا کہ سیدہ ام متین صاحبہ کا پیغام آیا کہ میری بیوی بچی کو لے کر فوراً قصر خلافت میں بِسمِ اللہ کے لئے پہنچ جاویں۔حضور نے یاد فرمایا ہے۔ہماری خوشی کی انتہاء نہ رہی۔ماں بچی فوراً حاضر ہو گئیں۔جا کر معلوم ہوا کہ