سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 41 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 41

41 ہو۔تمام ہمدردانِ اسلام کو میں مطلع کرتا ہوں۔۔وہاں جلسہ کا انتظام کر کے صیغہ ترقی اسلام قادیان کو اطلاع دیں۔انشاء اللہ فوراً مبلغ بھیجے جائیں (الفضل ۳۱ مئی ۱۹۲۷ء صفحہ ۷ ) گئے۔حضور صلی علیہ و سلم کی محبت کے صدقے پیدا ہونے والی عام بیداری سے استفادہ کرتے ہوئے تمدنی و اقتصادی غلامی سے نجات پانے کے لئے حضرت فضل عمر نے ایک انقلابی تحریک پیش کی آپ نے فرمایا :- ان چیزوں میں ہندوؤں سے چھوت چھات کرو جن میں ہندو چُھوت کرتے ہیں۔چھوت چھات کی فتیح رسم کی آڑ میں ہندوؤں نے تجارت پر جس طرح اجارہ داری قائم کر رکھی تھی اور مسلمانوں کو مجبور کر رکھا تھا کہ وہ ہندوؤں سے ہی اپنی اشیائے ضرورت خرید میں اس طرح مسلمانوں کی دل آزاری کرنے والا نا پاک لڑ بچر ایک طرح سے مسلمانوں کے خرچ سے ہی تیار ہو رہا تھا۔اس سلسلہ میں آپ نے فرمایا:- وو چاہئے کہ اس وقت سب جگہ کے مسلمان اس امر پر اتفاق کر لیں کہ جلد سے جلد ہر قسم کی دُکانیں مسلمانوں کی نکل آئیں اور جہاں تک ہو سکے مسلمان انہی سے سودے خریدیں۔بائیکاٹ کے طور پر نہیں بلکہ صرف ہندوؤں کی تدابیر کے جواب کے طور پر اپنی قوم کو ابھارنے کے لئے 66 (الفضل یکم جولائی ۱۹۲۷ء ) اس تحریک کے نتیجہ میں جو جوش اور جذبہ پیدا ہوا اس سے حضور نے قومی کیریکٹر کی بلندی و بہتری کا کام لینے کے لئے توازن و اعتدال پیدا کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا : - پس مسلمان کو چاہئے کہ رسول کریم صلی اللہادی اور علم کی عزت کو بچانے کے لئے غیرت دکھا ئیں مگر ساتھ ہی یہ بھی دکھا دیں کہ ہر ایک مسلمان اپنے نفس کو قابو میں رکھتا ہے اس سے مغلوب نہیں ہوتا۔جب مسلمان یہ دکھا دیں گے تو دنیا ان کے مقابلہ سے خود بخود بھاگ جائے گی‘ ( الفضل ۵۔جولائی ۱۹۲۷ء صفحہ ۷ ) اس طرح اتفاق و اتحاد کی تلقین کرتے ہوئے آپ نے فرمایا :- دو پس مخالفین اسلام کے مقابلہ کے لئے ہم سب کو جمع ہو جانا چاہئے تا کہ تا