سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 503 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 503

445 سیکرٹری تبلیغ دہلی۔اسی طرح اور کئی دوست کام میں لگے رہے۔امیر صاحب جماعت دہلی ، ڈاکٹر عبداللطیف صاحب، چودہری بشیر احمد صاحب، اسی طرح کئی اور دوست ان دنوں اسی طرح کام پر لگے رہے کہ گویا ان کا کام مہمان نوازی اور ہماری امداد کے سوا اور کوئی ہے ہی نہیں۔ڈاکٹر لطیف صاحب اور سید انتظار حسین صاحب کی موٹر میں رات دن ہماری کوٹھی پر رہیں اور چوہدری شاہ نواز صاحب کی کار کے ساتھ ہر وقت سلسلہ کے کام کرتی رہیں اور یہ قربانی ان لوگوں نے متواتر تین ہفتہ تک رات اور دن پیش کی۔یقیناً یہی ایمان کا تقاضا تھا اور امام کے آنے پر اس قسم کا اخلاص دکھائے بغیر کوئی جماعت اپنے ایمان کے دعوئی میں سچی نہیں ہو سکتی۔یہ کوئی اخلاص نہیں کہ امام آیا ہوا ہے اور لوگ اپنے کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔یہ تو دین سے استغناء کا مظاہرہ ہے اور جو دین سے استغناء کرتا ہے وہ ایماندار کس طرح کہلا سکتا ہے۔اکثر احباب جماعت مغرب وعشاء میں متواتر تین ہفتہ شامل ہوتے رہے۔میرے نزدیک جماعت کا ہم /۳ حصہ روزانہ نماز میں آتا تھا اور کافی تعداد کوئی پر را کے قریب باوجود دفتروں کا وقت ہونے کے ظہر وعصر میں شامل ہوتی تھی۔ان میں سے بعض کو پانچ چھ بلکہ سات میل سے آنا پڑتا تھا، کثرت سے جماعت کے دوست دوسروں کو ملاقات کے لئے لاتے رہے اور مفید سوال و جواب سے اپنے اور دوسروں کے ایمان تازہ کرتے رہے۔بہت سوں نے اس غرض سے دعوتیں کیں تا معزز غیر احمد یوں اور ہندوؤں کو ملنے کا موقع ملے۔کئی کی دعوتیں ہم قبول کر سکے اور کئی کی قلت وقت کی وجہ سے نہ کر سکے۔عورتوں کی خدمات اور اخلاص بھی قابل تعریف تھا۔انہوں نے قابلِ رشک نمونہ دکھایا۔بہر حال میں ان سب کا شکر یہ ادا کرتا ہوں اور ان کے اخلاص اور تقویٰ کی زیادتی کے لئے اور دینی و دنیوی کامیابی کے لئے دُعا کرتا ہوں۔اللَّهُمَّ امِینَ۔(الفضل ۱۶۔نومبر ۱۹۴۶ء صفحہ۱ ) حضور جس جماعت میں بھی تشریف لے جاتے تھے وہاں کے تمام افراد ایک دوسرے سے بڑھ کر اظہارِ محبت وعقیدت کرتے۔جماعت احمدیہ کوئٹہ کو بھی متعدد مرتبہ حضور کی تشریف آوری کی