سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 504
446 سعادت حاصل ہوئی ایسے ہی ایک موقع کی رپورٹ کرتے ہوئے روز نامہ الفضل نے لکھا: - آخر ایک کوٹھی تو ملی مگر وہ مکانیت کے لحاظ سے چھوٹی تھی۔اور پھر چار دیواری نہ ہونے کی وجہ سے بے پردہ تھی ، اندر سے بھی کوٹھی نا گفتہ بہ حالت میں تھی فرش جگہ جگہ سے ٹوٹا ہوا تھا اور بجلی کا انتظام بھی درست نہ تھا اس کوٹھی کا احاطه ۳۷۵×۳۰۰ فٹ تھا وہ بھی سخت گندہ تھا جگہ جگہ غلاظت کے ڈھیر تھے اور اس کی صفائی کرنا کوئی آسان کام نہ تھا لیکن جماعت احمدیہ کوئٹہ کو چونکہ کوئی اور کوٹھی دستیاب نہ ہو سکی اس لئے مقامی جماعت کے مخلصین نے فیصلہ کیا کہ خواہ ہمیں کتنی بڑی محنت کرنی پڑے ہم دن رات کام کر کے اس کوٹھی کو ہر لحاظ سے درست کر کے چھوڑیں گے اور اسے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی رہائش کے قابل بنا کے چھوڑیں گے۔چنانچہ نہایت مستعدی سے کام شروع کیا گیا کوٹھی کے اردگرد قریباً چھ فٹ اور سات فٹ اونچی دیوار بنائی گئی اندر قریباً دو فٹ لمبی کچی دیوار پردہ کے لئے بنائی گئی۔تمام کوٹھی کی صفائی کی گئی ، پانی اور بجلی کا انتظام درست کیا گیا اور حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق تین نہایت گشادہ کمرے مع غسلخانوں کے نئے تعمیر کئے گئے۔اس تمام کام میں جماعت کے دوستوں نے خود حصہ لیا اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے غلاظت کے ڈھیر صاف کئے ، اپنے ہاتھ سے گارا بنایا اور اپنے ہاتھ سے گارے کی ٹوکریاں اٹھا اٹھا کر دیواروں کی لپائی کی گئی۔امیر جماعت سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے افراد تک نے اس کام میں نہایت سرگرمی جوش اور اخلاص کے ساتھ حصہ لیا اور مہینوں اپنے ہاتھ سے خاکروبوں ، مزدوروں اور معماروں کا کام کر کے اس کوٹھی کو جو لٹن روڈ پر واقع ہے اس قابل بنایا کہ حضور مع اہلِ بیت اس میں فروگش ہوسکیں۔“ الفضل ۲۵۔جون ۱۹۴۸ء صفحه ۳) حضرت قاضی امیر حسین صاحب جو علم حدیث کے ماہر، حضرت مسیح موعود کی صحبت سے فیض یافتہ اور ابتدائی علماء میں سے تھے ان کا ایک لطیفہ حضرت مصلح موعود اکثر بیان کیا کرتے تھے کہ حضرت مولانا صاحب کے نزدیک جب کوئی مجلس لگی ہوئی ہو اور باہر سے کوئی بھی آجائے تو اس کے استقبال کے لئے کھڑے ہونا نا مناسب ہے۔حضور فرماتے تھے کہ اس کے باوجود میں جب بھی ان کی