سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 493
435 نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ چونکہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طبیعت زیادہ ناساز ہے اس لئے کل صبح جن جماعتوں کی ملاقاتیں تجویز کی گئی تھیں وہ نہ ہو سکیں گی اور جلسہ کے ایام میں حضور کی طبیعت سخت نا ساز رہی لیکن باوجود اس کے اپنے خادموں کے اشتیاق کے پیش نظر حضور تینوں دن سخت تکلیف اٹھا کر جلسہ گاہ میں تشریف لاتے اور تقریر میں فرماتے رہے“ ۲۶۔دسمبر جلسہ کے افتتاح کے لئے جب کہ ہزار ہا خدام کئی گھنٹوں سے حضور کی زیارت کے لئے مجسم انتظار بنے بیٹھے تھے پونے بارہ بجے بذریعہ موٹر تشریف لائے تمام مجمع موٹر کے آنے کی آواز سنتے ہی بے تابی کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔اور اللہ اکبر“ اور حضرت فضل عمر زندہ باد کے نعرے بلند کئے مگر کیا مجال کہ اتنے بڑے اجتماع اور ایسے پر اشتیاق خدام کے مجمع میں ذرا بھی بے انتظامی پیدا ہوئی ہو حضور موٹر سے آرام کرسی پر بیٹھ کر سٹیج پر رونق افروز ہوئے سٹیج پر سے مزید کرسیاں ہٹا دی گئی تھیں تا کہ مشتاقان زیارت ہر طرف سے حضور کی زیارت کر سکیں اس وقت کا نظارہ نہایت ہی ایمان افزاء تھا ایسی تکلیف کی حالت میں حضور کی خدام نوازی سے ہر طرف رقت کا عالم طاری تھا بہت سی آنکھیں اشکبار ہو رہی تھیں اور ہر فرد کوشش کر رہا تھا کہ حضور کی زیارت سے زیادہ سے زیادہ مستفیض ہو سکے اور اپنے محبوب آقا کے رخ انور کو دیکھ کر اپنی آنکھوں کو پُر نور بنا سکے۔حضور نے کرسی پر رونق افروز ہو کر خدام کو السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ کا تحفہ پیش فرمایا پھر تشہد اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت فرما کر افتتاحی تقریر فرمائی جو نہایت رقت انگیز تھی۔آخر میں حضور نے اعلان فرمایا کہ: اگر کچھ بھی آرام ہوا تو میں کوشش کرونگا کہ کل اور پرسوں بھی کچھ نہ کچھ بولوں گزشتہ دو دن تو اس قدر تکلیف رہی کہ یہ بھی مشکل نظر آتا تھا کہ سال کے بعد جو دوست جمع ہوئے ہیں انہیں میں دیکھ بھی سکوں گا یا نہیں ایسی حالت میں میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں آپ لوگوں کو ایک دفعہ دیکھ تو آؤں۔اس خواہش کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے پورا کر دیا ہے۔“ ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ حضور کو جلسہ سالانہ پر تشریف لانے والے احباب کی کس قدر خاطر منظور تھی اور اس کے مقابلہ میں اپنی زیادہ سے زیادہ تکلیف کو کس طرح نظر انداز فرماتے ۲۷۔دسمبر کو حضور ا بھی تقریر فرما رہے تھے کہ تکلیف نا قابل برداشت حد تک بڑھ گئی رہے۔