سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 37 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 37

37 تمہارے دل میں شک نہیں ہونا چاہئے (پیغام صلح ۳۱ مئی ۱۹۴۴ صفحه ۳) اس سے پہلے حضور بعض غیر از جماعت لوگوں کی طرف سے ایسے الزامات کے جواب میں انہیں دعوت مباہلہ دے چکے تھے اس بیہودہ الزام پر بھی آپ خاموش نہیں رہ سکتے تھے۔آپ نے بڑے دُکھے ہوئے دل اور درد کے ساتھ فرمایا :- یہ ایک ایسا اتہام ہے کہ میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس سے بڑا جھوٹ بھی کوئی بول سکتا ہے وہ قوم جو کلمہ طیبہ کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد جھتی ہو اس پر یہ الزام لگانا کہ وہ اسے منسوخ قرار دیتی ہے اتنا بڑا ظلم ہے اور اتنی بڑی دشمنی ہے کہ ہماری اولا دوں کو قتل کر دینا بھی اس سے کم دشمنی ہے۔ایسا جھوٹ بولنے والے۔۔۔کے دل میں خدا تعالیٰ اور رسول کریم صلی المیہ و سلم کی محبت ہر گز نہیں ہو سکتی۔جس کے دل میں خدا اور رسول کی محبت ہو وہ ایسا جھوٹ کبھی نہیں بول سکتا۔یہ ہم پر اتنا بڑا الزام ہے کہ ہمارے کسی بڑے سے بڑے مگر شریف دشمن سے بھی پوچھا جائے تو وہ یہ کہے گا کہ یہ جھوٹ ہے اور میں سمجھتا ہوں اب فیصلہ کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے اگر مولوی صاحب میں تخیم دیانت باقی ہے تو وہ اور ان کی جماعت ہمارے ساتھ اس بارہ میں مباہلہ کریں کہ آیا ہم کلمہ طیبہ کے منکر ہیں“ الفضل ۷۔جولائی ۱۹۴۴ ء صفحہ ۴) مولوی محمد علی صاحب کو اتنی جرات نہ ہوئی کہ وہ اپنے غلط الزام و اتہام کو ثابت کرنے کے لئے مباہلہ کی دعوت کو قبول کرتے یا اخلاقی جرات سے کام لیتے ہوئے اس الزام کو واپس لے لیتے۔یہ عجیب بات ہے کہ حضور نے مباہلہ کا چیلنج کرتے ہوئے ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا تھا کہ : - وہ کبھی اپنے آپ کو اور اپنے بیوی بچوں کو اس مقام پر کھڑا نہ کریں گے بلکہ اس عظیم الشان جھوٹ بولنے کے بعد بُد دلوں کی طرح بہانوں سے اپنے آپ کو اور اپنی اولادکو جھوٹوں کی سزا سے بچانے کی کوشش کریں گے“ الفضل ۷۔جولائی ۱۹۴۴ء صفہیم ) مولوی صاحب کی خاموشی اور اس چیلنج کو قبول کرنے سے عاجز رہنا اپنی جگہ اس بات کا ایک بین ثبوت ہے کہ جماعت احمدیہ اور حضرت امام جماعت احمد یہ توحید پر مضبوط و راسخ ایمان رکھتے اور آنحضرت صل العماد ال مسلم کی ارفع و اعلیٰ اور مقدس شان ان کے ایمان کی بنیاد ہے۔