سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 38
38 آریہ سماج کے بانی پنڈت دیانند نے ستیارتھ پرکاش نامی اپنی ایک تصنیف میں دوسرے مذاہب پر بے جا زبان درازی کے ساتھ ساتھ ہمارے امین وصدیق اور مکارم اخلاق کے بلند ترین مقام پر فائز محبوب خدا آنحضرت صلی الشماید آل وسلم اور اسلام پر بھی اخلاق و تہذیب سے گرے ہوئے نہایت دل آزار الزامات لگائے۔بعض مسلمان حلقوں نے اس کتاب کو حکومت کی طرف سے ضبط کروانے کی کوشش کی جو کسی طرح بھی ایک مخالفانہ کتاب کا صحیح جواب نہیں ہو سکتا تھا۔حضرت مصلح موعود نے نحضرت صلی الماری الہ سلم سے اپنے غیر معمولی عشق و محبت کی وجہ سے ضروری سمجھا کہ اس کتاب کا مدلل و مکمل جواب دیا جاوے مگر جوش میں ہوش اور مقابلے میں توازن و اعتدال یہاں بھی برابر موجود ہے آپ فرماتے ہیں:- میں نے ستیارتھ پرکاش کا جواب شائع کرنے کا اعلان کیا تھا۔۔۔۔جو نو جوان اس کام کو کر رہے ہیں مجھے خوشی ہے کہ وہ محنت کے ساتھ کر رہے ہیں اور مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ ہماری جماعت میں ایسے نوجوان پیدا ہو رہے ہیں جو ہند ولٹریچر کو اس کی اپنی زبان میں پڑھ کر غور کر سکتے ہیں۔اس کام کے لئے میں نے مولوی ناصرالدین صاحب عبد اللہ اور مہاشہ محمد عمر صاحب اور مہاشہ فضل حسین صاحب کو مقرر کیا ہوا ہے اور یہ تینوں بہت جانفشانی سے اس کام میں لگے ہوئے ہیں اور میں سر دست ایڈیٹنگ کرتا ہوں بعض دفعہ ان کی عبارتوں میں جوش ہوتا ہے کیونکہ ستیارتھ پرکاش میں سخت سخت حملے کئے گئے ہیں اس لئے اس کا جواب دیتے وقت جذبات کو روکنا مشکل ہوتا ہے اس لئے میں اسبات کی بھی نگرانی کرتا ہوں کہ ایسے سخت الفاظ استعمال نہ کئے جائیں جن سے کسی کی دل (الفضل ۸ فروری ۱۹۴۵ ء صفحه ۱ ) 66 شکنی ہو۔۔۔مذکورہ بالا مضامین میں سے ایک مضمون پر حضور نے اپنے قلم سے تحریر فرمایا:- ان الفاظ کو نرم کیا جائے اور دلیل کو واضح۔اس مضمون کو زیادہ زور دار بنایا جاسکتا ہے“ عشق و محبت کی یہ بے مثال کیفیت الفاظ و بیان کی حدود سے کہیں زیادہ وسیع اور گہری ہے۔۱۹۲۷ء میں اس کیفیت کے کسی قدر اظہار کا ایک موقع پیدا ہوا۔ایک ہندو اخبار ورتمان" نے آنحضرت صلی اللہ و آلہ وسلم کے متعلق ایک نہایت دل آزار مضمون شائع کیا۔اسی زمانے میں ایک نہایت