سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 464 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 464

406 لئے تیار ہوں تو میں فوراً مستعفی ہو جاؤں گا بلکہ بعض صاحبان کو تو میں نے یہ بھی لکھا کہ اس صورت میں وہ میرے اس خط کو ہی استعفی سمجھ لیں،، (انوار العلوم جلد ۲ صفحہ ۱۲۱٬۱۲۰) اس بیان کا ایک ایک لفظ قومی ہمدردی ، اتحاد و یکجہتی کا مظہر اور آمریت کے الزام کا مکمل ومسکت جواب ہے۔جہاں تک جماعت کے اندرونی نظام کا تعلق ہے تو اپنوں اور غیروں کو اس امر کا اعتراف ہے کہ جماعت میں نہایت مضبوط و مؤثر اور مستحکم تنظیم پائی جاتی ہے۔ذیلی تنظیموں لجنہ اماء الله ، انصار الله، خدام الاحمدیہ، اطفال الاحمدیہ، ناصرات الاحمدیہ کے عہدیدار با قاعدہ انتخاب سے مقرر ہوتے ہیں۔انتخاب کا نظام اپنی جگہ بہت مکمل و جامع ہے۔اسکے ساتھ ساتھ جماعت میں شوریٰ کا نہایت عمدہ نظام موجود ہے جس میں نمائندگان منتخب ہو کر آتے ہیں اور بڑے وقار، متانت ، سنجیدگی اور ذمہ داری سے جماعتی امور پر غور و فکر کرتے اور مشورے پیش کرتے ہیں اس وقت دنیا بھر میں یہ واحد نظام یا اکلوتی مثال ہے کہ جہاں اظہارِ رائے کی مکمل آزادی بھی ہے مگر کوئی حزب مخالف وحزب موافق اور دائیں بائیں بازو کی تفریق و انجمن نہیں۔سب منتخب ممبر خدا تعالیٰ کے خوف کو مدنظر رکھتے ہوئے مکمل غیر جانبداری سے اپنی رائے پیش کرتے ہیں۔احباب جماعت کو خوب معلوم ہے که مجلس شوریٰ کا حسین و مستحکم نظام پورے طور پر حضرت فضل عمر کا قائم کردہ ہے جسے آپ نے اپنی قیادت کے بالکل ابتدائی زمانے میں شروع فرمایا اور قدم بہ قدم ترقی دیتے ہوئے نہایت مفید اور منفر دادارہ کی شکل دیدی۔یہ امر بھی آمریت کا الزام لگانے والوں کا ایک عملی اور مسکت جواب ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ابھی ہم میں وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے حضور کو اپنے ہاتھوں سے قادیان کی گلیوں میں مٹی کھودتے اور مرمت وصفائی کے کاموں میں حصہ لیتے اور وقار عمل“ کو قائم کرتے دیکھا۔ابھی ایسے لوگ بھی ضرور موجود ہوں گے جنہوں نے مساوات وسادگی کا یہ نظارہ بھی کئی دفعہ دیکھا کہ اگر کسی مجبوری اور جگہ کی کمی کی وجہ سے حضور کے لئے باقی حاضرین سے الگ اور بلند مسند بنائی گئی تو حضور نے منتظمین کو فہمائش کرتے ہوئے اس مخصوص جگہ کو چھوڑ کر عام احمد یوں کے درمیان تشریف فرما ہو کر تقریب میں شرکت کی۔حضور کے ہاں ہونے والی دعوتوں یا حضور کے اعزاز میں ہونے والی پارٹیوں میں حضور کا یہ طریق مبارک تھا کہ جب تک سب ساتھیوں کو ایک جیسا کھانا نہ ملتا کھانا شروع نہ فرماتے۔سفر کے وقت بھی اس امر کا اہتمام فرماتے کہ سب اصحاب قافلہ