سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 437 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 437

394 زائد کہہ کر اخبار میں شائع کروا دی۔حتی الوسع آپ نے بچوں کی خواہشات کو پورا فرمایا اور ان کی دلچسپیوں میں حصہ لیا۔ہاں کوئی بات وقار و تہذیب سے گری ہوئی دیکھی یا کوئی امر خلاف قرآن وسنت دیکھا تو بہت ناراض ہوتے تھے۔جیسا کہ میں اپنے ایک مضمون میں ( جو غالباً مصباح میں شائع ہوا تھا ) ذکر کر چکی ہوں کہ ایک لڑکی نے سہیلیوں سے سن کر سہرا منگوا لیا اور آپ نے پکڑ کر قینچی سے کاٹ کر پھینک دیا۔اپنی مصروفیات کے باوجود کبھی کبھی خود بچوں کو پڑھا بھی دیتے تھے۔ایک دفعہ قادیان میں قرآن مجید پڑھانا شروع کیا، جس میں مبارک احمد منور احمد امتہ القیوم امتہ الرشید اور میں شامل ہوتے تھے۔عربی، صرف ونحو بھی ساتھ ساتھ پڑھاتے تھے۔پہاڑ پر جب گرمیوں میں جاتے بچوں کو گرمیوں کی تعطیل ہوتی تھیں ہر سال ہی کچھ نہ کچھ پڑھایا کرتے۔ڈلہوزی میں کئی دفعہ عربی، صرف ونحو حدیث اور قرآن مجید مجھے پڑھانا یاد ہے۔کبھی خود نہ پڑھا سکتے تو مجھے فرماتے تھے کہ لڑکیوں کو پڑھایا کرو۔ایک دفعہ مجھے فرمایا کہ بچیوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قصیدہ یاد کرواؤ۔پڑھانے کا طریق بڑا ہی عجیب تھا نہایت آسان طریق پر کہ پڑھنے والا سمجھتا اس سے زیادہ آسان کوئی سبق ہی نہیں۔آج تک وہ پڑھا ہوا یاد ہے۔خصوصاً عربی ، صرف ونحو کا پڑھانا تو آپ پر ختم تھا۔میں نے آج تک اس طریق سے کسی کو پڑھاتے نہیں دیکھا۔بچوں کی مجالس میں اکثر لطائف سنایا کرتے اور بچوں سے لطیفے سنتے۔ہزاروں لطیفے اور چٹکلے یاد تھے۔کبھی کبھی رات کو بچوں کو لے کر بیٹھ جانا اور کوئی کہانی سنا دینی۔کئی دفعہ ایک ایک کہانی کا سلسلہ ہفتوں چلا کرتا اور وہ اتنی دلچسپ ہوتی کہ بچے تو گجا سارے گھر کے بڑے بھی گھیرا ڈال کر بیٹھ جاتے اور کہانی سنتے۔بچوں کا شام کے بعد گھر سے باہر رہنا بہت نا پسند تھا اس کی پابندی کروانے کی ہمیشہ تاکید کرتے کہ مغرب کے بعد اِدھر اُدھر نہیں پھر نا رات کو اگر دیر سے کوئی بچہ کہیں سے آتا تو ناراض ہوتے۔