سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 430 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 430

387 ازالہ کر دے۔اپنے دروازہ کے سوالی کو رڈ نہ کیجیو۔دیکھو میری آنکھیں سفید ہو رہی ہیں اور ہاتھ کانپ رہے ہیں۔مجھ پر رحم کر۔مرزا محمود احمد وہ بچے جن کی مائیں فوت ہو چکی ہیں ان کی دل جوئی خصوصیت کے ساتھ کرتے اور محبت و پیار سے رکھتے ہیں کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونے دیتے۔دیگر رشتہ داروں کا بھی خاص خیال رکھتے ہیں۔ہر موقع پر ان سے احسان کرنا مدنظر ہوتا ہے۔اکثر دفعہ خود ان سے مل کر ان کے حالات سے آگاہی حاصل کرتے ہیں۔ان کی خوشیوں اور ان کے غموں میں شریک ہوتے ہیں۔ہمیشہ ان کی تعظیم اور اکرام مدنظر رہتا ہے۔اور جملہ رشتہ دار آپ کے حسنِ سلوک سے خوش ہیں ( الفضل ۲۸۔دسمبر ۱۹۳۹ء) حضور نے حضرت آپا سارہ بیگم صاحبہ اور محترمہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ کو مختلف مقامات کی سیر کروائی اور ان کی دلجوئی کا خوب خیال رکھا۔اس واقعہ میں اہل وعیال کے حقوق کی بہتر ادائیگی کے ساتھ ساتھ یہ امر بھی مدنظر تھا کہ آپ عورتوں کی تعلیم میں بہت دلچسپی لیتے تھے اور اسے جماعتی ترقی کا ایک ضروری حصہ سمجھتے تھے صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ فرماتی ہیں :- آپا جان سارہ بیگم اور میں نے میٹرک کا امتحان دیا ابا جان فرمانے لگے امتحان دے کر تھک گئی ہو تم لوگوں کو سیر کرا لاؤں۔ڈیرہ دون مسوری و دہلی لے گئے۔عید مسوری کرنی تھی حضرت ابا جان تو جماعتی کاموں میں مصروف رہتے تھے زیادہ وقت باہر ہی گزرتا میں اُداس ہوگئی اور کہنے لگی عید کا مزہ تو سب میں آتا ہے جماعت بہت زیادہ زور دے رہی تھی اس لئے ابا جان کی خواہش تھی کہ عید مسوری میں کی جائے۔میں نے کہا اگر عید ضرور یہاں کرنی ہے تو بھائی کو بلوا دیں بھائی جان (حضرت خلیفہ المسیح الثالث) اُس وقت لاہور پڑھتے تھے۔ابا جان نے فوراً تار دیگر اُن کو وہاں بلوالیا۔کتنی محبت تھی آپ کو اپنی بچیوں سے، کتنا احترام کرتے تھے ان کے جذبات کا عزیز واقارب سے حُسنِ سلوک اور اہل وعیال سے تعلق خاطر اور ہر ایک کے جذبات کو محسوس کرنا اور معاملہ کی حقیقت کو بخوبی سمجھ لینا حضرت سیدہ مہر آپا کے بیان کردہ مندرجہ ذیل واقعہ سے سیرت کے یہ سب پہلو بہت واضح طور پر نمایاں ہوتے ہیں :-