سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 431
388 وو غالبا ۱۹۴۴ء کا ہی ذکر ہے کہ آپ کو ڈلہوزی راشی‘ میں حضرت میاں بشیر احمد صاحب کی اچانک بیماری کی اطلاع ملی۔سلسلہ کے کاموں میں انتہائی طور پر مصروف ہوتے۔مجھ پر یہی اثر تھا (ابتداء میں ) کہ آپ کو صرف اور صرف ایک لگن ہے تو اللہ تعالیٰ کی یا پھر دینی مصروفیتوں سے اس حد تک عشق ہے کہ اس کے سوا باقی سب کچھ بیچ ہے لیکن جب حضرت میاں صاحب کی بیماری کی اطلاع آئی میری حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی کہ پھر اس خبر سے اس قدر بیقرار ہوئے جس طرح ایک ماں اپنے بچہ کی تکلیف پر بے چین ہوتی ہے۔اس حد تک کہ پھر سوائے حضرت اماں جان کے اور کسی کو جاتے ہوئے مل نہ سکے۔خود بخود ہی تمام گھر آپ کو الوداع کرنے دروازہ تک گیا۔راشی دومنزلی کوٹھی تھی۔میں یہ سب منظر او پر بیٹھی اپنے کمرہ کی کھڑکی میں سے دیکھ رہی تھی۔باوجود چاہنے کے۔۔۔غیر معمولی حجاب اس بات کے مانع رہا کہ میں بھی جا کر حضرت اقدس کو الوداع کہوں۔۔۔۔آپ تشریف لے گئے۔قادیان پہنچتے ہی آپ کو اطلاع ملی کہ حضرت میاں صاحب کی طبیعت نسبتاً بہتر ہے۔آپ نے تین دن وہاں قیام کیا (غالبا) آپ نے وہاں سے مجھے خط لکھا اس میں جہاں حضرت میاں صاحب کی بیماری اور پھر روبصحت ہونے کی اطلاع دی وہاں مجھ سے اس گھبراہٹ میں نہ مل کر جانے کا افسوس اور پھر میرے آپ کو تمام گھر کے ساتھ الوداع نہ کرنے کا شکوہ بھی کیا۔اور پھر آخر میں یہ بھی لکھا کہ غالبا حجاب ہی مانع ہوگا۔مجھے خط پڑھ کر تعجب ہوا کہ آپ کی نگاہیں کس قدر دور بین ہیں آپ سب کچھ کس قدر صحیح " سمجھے ہیں۔آپ اپنے بہن بھائیوں ، عزیزوں کے لئے کس قدر خوبصورت محبت کرنے والا اور ہمدرد دل رکھتے ہیں اور پھر بیوی ہونے کی حیثیت سے میری کس طرح دلداری کی؟ اور میری کوتا ہی کا اظہار بھی کس خوبصورت طریق پر کیا اور کوتاہی کی وجہ بھی کتنی صحیح آپ نے سمجھی؟“ ( الفضل فضل عمر نمبر ۱۹۶۶ء) حضور اپنے تعلقات میں اَلحُبُّ لِلَّهِ وَالْبُغْضُ لِلهِ کو مدنظر رکھتے تھے۔مندرجہ ذیل حقیقت افروز بیان کا ہر لفظ اسی رہنما اصول کی تفسیر و تعبیر ہے:۔