سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 32 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 32

32 اظہار کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: ” خدا نے مجھے اس غرض کے لئے کھڑا کیا ہے کہ میں محمد رسول اللہ صلی الشعار المسلم اور قرآن کریم کے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں اور اسلام کے مقابلہ میں دنیا کے تمام باطل ادیان کو ہمیشہ کی شکست دیدوں۔دنیا زور لگا لے وہ اپنی تمام طاقتوں اور جمعیتوں کو اکٹھا کر لے، عیسائی بادشاہ بھی اور ان کی حکومتیں بھی مل جائیں ، یورپ بھی اور امریکہ بھی اکٹھا ہو جائے ، دنیا کی تمام بڑی بڑی مالدار اور طاقتور قو میں اکٹھی ہو جا ئیں اور وہ مجھے اس مقصد میں نا کام کرنے کے لئے متحد ہو جائیں پھر بھی میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ میرے مقابلہ میں نا کام رہیں گی۔اور خدا میری دعاؤں اور تدابیر کے سامنے ان کے تمام منصوبوں اور مکروں اور فریبوں کو ملیا میٹ کر دے گا اور خدا میرے ذریعہ سے یا میرے شاگردوں اور اتباع کے ذریعہ سے اس پیشگوئی کی صداقت ثابت کرنے کے لئے رسول کریم صلی الشہری اور مسلم کے نام کے طفیل اور صدقے ، اسلام کی عزت کو قائم کرے گا اور اس وقت تک دنیا کو نہیں چھوڑے گا جب تک اسلام پھر اپنی پوری شان کے ساتھ دنیا میں قائم نہ ہو جائے اور جب تک محمد رسول اللہ صل العملی آلہ مسلم پھر دنیا کا زندہ نبی تسلیم نہ کر لیا جائے۔( الموعود ۲۱۱-۲۱۲) خوشی اور غم کے موقع پر انسان کو اپنے پیارے یاد آتے ہیں۔ایک عید کی خوشی میں آنحضرت صلی اللہ و آلہ سلم کو یاد کرتے ہوئے اور آنحضرت صلی الشہایا اور مسلم کے مقاصد عالیہ کو یاد دلاتے ہوئے آپ کے دل کی گہرائیوں سے یہ آواز اٹھتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس دن ( عید کے دن) خدا تعالیٰ نے ہمیں خوش ہونے کا حکم دیا ہے اور ہم خوشی منانے پر مجبور ہوتے ہیں لیکن پھر بھی ہمارے دلوں کو چاہئے کہ روتے رہیں کہ ابھی محمد رسول اللہ لا الہ الا سلم اور اسلام کی عید نہیں آئی۔محمد رسول اللہ صل العماد المسلم اور اسلام کی عید سویاں کھانے سے نہیں آتی ، نہ شیر خرما کھانے سے آتی ہے بلکہ ان کی عید قرآن اور اسلام کے پھیلنے سے آتی ہے۔اگر قرآن اور اسلام پھیل جائیں تو ہماری عید میں محمد رسول اللہ صلی اللہ یہ آلہ سلم بھی شامل ہو جائیں گے پس کوشش یہی کرو کہ اسلام کی اشاعت ہو ، قرآن کی اشاعت