سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 416
373 یہی رائے دی کہ بچوں کے انتظام کے لئے اور شادی ہی مناسب رہے گی۔میری زیادہ بے تکلفی اپنی ہمشیرہ مبارکہ بیگم سے ہے۔ان سے میں نے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ میں تو خود آپ سے یہ کہنا چاہتی تھی مگر مریم بیگم مرحومہ سے چونکہ مجھے بہت محبت تھی اور لوگوں کو معلوم تھا کہ ہمارے با ہم بہت تعلقات تھے اس لئے میں نے اس ڈر سے آپ کو یہ مشورہ پہلے نہیں دیا کہ لوگ سمجھیں گے کہ زندگی میں جس سے اتنی محبت تھی اس کی وفات کے بعد فوراً ہی اور شادی کر لینے کا مشورہ دے رہی ہیں۔انہوں نے اپنا ایک خواب بھی سنایا جو انہوں نے ام طاہر مرحومہ کی زندگی میں دیکھا تھا۔اس محبت کی وجہ سے جو مجھے اُمم طاہر مرحومہ سے تھی یہ قدم جو میں اُٹھا رہا ہوں میرے لئے سہل اور خوشی کا موجب نہیں بلکہ رنج اور تکلیف کا موجب ہے۔مجھے اُمید نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت جس طرح کہ میں نے اسے سمجھا میں نے جو قدم اُٹھایا ہے میرا رحیم و کریم خدا میرے لئے اسے کسی پریشانی کا موجب نہ بنائے گا۔۔۔تو میں پھر بھی اس سے دعا کرتا ہوں کہ۔۔۔۔۔۔۔اگر یہ کوئی آزمائش کی بات بھی ہے تو اس ابتلاء کو ابتلائے رحمت بنادے (خطبات محمود جلد ۳ صفحه ۵۸۷ تا ۵۹۴) حضور کے ارشاد سے ظاہر ہے کہ حضرت اُئِم طاہر کی وفات کی وجہ سے ان کے بچوں کی تربیت اور جماعتی امور میں تعاون و شمولیت کے لئے یہ شادی ایک ضرورت حقہ تھی تاہم اس کا فیصلہ کوئی آسان امر نہ تھا حضور اس فیصلہ پر جماعت کے بزرگوں کی دعاؤں استخاروں اور مشوروں کے بعد پہنچے اس شادی کے فوائد اور نتائج حضور کی عمر کے آخری حصہ میں زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آئے۔جب حضرت ائتم متین صاحبہ اور حضرت مہر آپا صاحبہ نے بڑی جانفشانی، محنت اور محبت وعقیدت سے جماعت کے محبوب امام کی خدمت کا حق ادا کیا۔حضور کی غیر معمولی مصروف زندگی کو دیکھتے ہوئے یہ خیال ہو سکتا ہے کہ حضور کو اپنی بیگمات اور بچوں کے ساتھ وقت گزار نے ان کے جذبات واحساسات کا خیال رکھنے اور حقوق ادا کرنے کے لئے وقت اور موقع کم ہی ملتا ہو گا مگر اس ضمن میں بھی حضور ایک بھر پور پُر لطف زندگی گزارتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ایک سے زیادہ بیویوں کے جذبات احساسات کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ نظم وضبط اور انصاف و مساوات کو قائم رکھنا ایک مسلسل عبادت سے کم نہیں ہے۔