سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 394
351 وو امۃ اللطیف صاحبہ سے ۱۹۱۷ ء میں شادی کی۔یہ رشتہ بھی حضور کا ہی طے کردہ تھا۔۷۔اکتوبر ۱۹۱۸ ء کو میری پیدائش ہوئی۔چونکہ اور کوئی پہلے اولاد نہ تھی اس لئے میرے ابا جان نے مجھے ہی خدا تعالیٰ کے حضور وقف کر دیا۔اس کا اظہار حضرت ابا جان نے اپنے کئی مضامین میں بھی کیا اور جب میری شادی ہوئی تو آپ نے مجھے کچھ نصائح نُوٹ بک میں لکھ کر دیں۔اس میں آپ نے تحریر فرمایا : - مریم صدیقہ ! جب تم پیدا ہوئیں تو میں نے تمہارا نام مریم اس نیت سے رکھا تھا کہ تم کو خدا تعالیٰ اور اس کے سلسلہ کے لئے وقف کر دوں اسی وجہ سے تمہارا دوسرا نام نذیرالہی بھی تھا۔اب اس نکاح سے مجھے یقین ہو گیا کہ میرے بندہ نواز خدا نے میری درخواست اور نذر کو واقعی قبول کر لیا تھا اور تم کو ایسے خاوند کی زوجیت کا شرف بخشا جس کی زندگی اور اس کا ہر شعبہ اور ہر لحظہ خدا تعالیٰ کی خدمت اور عبادت کے لئے وقف ہے۔پس اس بات پر بھی شکر کرو مضمون کہ تم کو خدا تعالیٰ نے قبول فرمالیا اور میری نذر کو پورا کر دیا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ۔اسی سلسلہ میں اپنے ابا جان کے ایک مضمون کا اقتباس بھی پیش کرتی ہوں۔آپ کا یہ مخمخانہ عشق میں ایک رات کے عنوان سے ۳۔نومبر ۱۹۳۶ء کے الفضل میں شائع ہوا ہے۔آپ لکھتے ہیں :- آدھی رات تو ہو ہی چکی تھی میں چوکھٹ پر سر رکھے پڑا تھا اور اُٹھنے کا خواہشمند تھا کہ اُٹھنے کی اجازت ملی۔وہیں دروازہ کے ساتھ ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا اور اپنی زبان میں اظہار تعشق یا یوں کہو مناجات شروع کی۔ایسی مؤثر ایسی رقت بھری کہ سنگدل سے سنگدل معشوق بھی اُس کو سُن کر آبدیدہ ہو جائے۔آخر میرا جادو چل گیا اور یوں محسوس ہوا کہ کوئی پوچھتا ہے کہ کیا چاہتا ہے؟ میں نے عرض کیا“ اے خداوند من گنا ہم بخش سوئے درگاه خویش را ہم بخش در دوعالم توئی عزیز و آنچه می خواهم از تو نیز توئی مفت میں نے کہا میں کیا پیش کر سکتا ہوں جو کچھ ہے وہ آپ کا ہی