سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 385
342 سلسلہ کی روح پیدا کرنے کے لئے کسی ایسی لڑکی سے شادی کروں جو تعلیم یافتہ ہو اور جسے میں تربیت دے کر تعلیمی کام کرنے کے قابل بنا سکوں۔اس فیصلہ کے بعد بعض کی تحریک پر مختلف جگہیں پیش ہوئیں جن میں سے کئی ایسی تھیں جن کی سفارش ان کی شکل وصورت کرتی تھی لیکن چونکہ یہ بات مجھے مدنظر نہ تھی اس لئے میں نے انکار کر دیا پھر بعض ایسی تھیں جو تعلیم دنیاوی زیادہ رکھتی تھیں اور یہی کشش تھی جو مجھے کھینچنے کا باعث ہو سکتی تھی مگر ان جگہوں کے متعلق بھی میں نے انکار کر دیا کیونکہ میں نے سمجھا یہ تعلیم ایسی نہیں جس کے پیچھے میں پڑوں۔آخر قطع نظر ان امور کے محض اس وجہ سے کہ اس جگہ دینی تعلیم کا سوال تھا اور وہ بات جس کی سلسلہ کو ضرورت تھی وہ اس جگہ پوری ہوتی نظر آتی تھی اس لئے میں نے اس جگہ کے متعلق اپنی رضا ظاہر کر دی جس جگہ اب نکاح کا فیصلہ کیا گیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کو چوتھی شادی کی بھی ایک مسلمان کو اجازت ہے مگر میں اپنے حالات کے لحاظ سے اس کے لئے تیار نہ ہوتا۔میں نہیں سمجھتا آئندہ میرے قلب کا کیا حال ہوگا لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ اس وقت تک کوئی ایسی حالت مجھ پر نہیں گزری کہ میں نے اس نقصان کو بھلایا ہو اور آج تک میں نے کوئی نماز ایسی نہیں پڑھی جس میں امتہ اکئی مرحومہ کے لئے دعا نہیں کی۔۔۔۔۔شاذ ہی کوئی ہوتا ہے جو مرنے والے کی یاد اپنے دل میں تازہ رکھتا ہے لیکن مجھ میں وفاداری اور وفاشعاری کا ایک ایسا جذبہ رکھا گیا ہے کہ میں نے اپنے بچپن کے زمانہ سے اسے محسوس کیا ہے۔اس زمانہ میں جب دوست مجھ سے پوچھا کرتے کہ تم پر کونسی بات سب سے زیادہ اثر کرتی ہے تو میں جواب دیا کرتا تھا میں اگر کسی کتاب میں وفاداری کا کوئی واقعہ پڑھوں تو میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر جانے سے باز نہیں رہ سکتیں۔میرے نزدیک کسی کی جدائی اور اس دنیا کے لحاظ سے ہمیشہ کی جدائی کو یاد رکھنا ایک خوشگوار رنج ، ایک فرحت پہنچانے والا غم اور ایک مسرت بخش تکلیف ہے۔یہ رنج ہزاروں خوشیوں سے بہتر اور یہ غم ہزاروں فرحتوں سے اچھا ہے۔محبت کا درد، درد نہیں بلکہ دوا ہے وفاداری کا صدمہ صدمہ نہیں بلکہ دل کو صاف کرنے والی ایسی بھٹی ہے جس سے وہ چلا پا کر نکلتا ہے اور انسان کی روح آلائشوں سے