سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 386 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 386

343 امیدوار ہوں۔66 پاک ہو کر اس اعلیٰ مقام پر سانس لیتی ہے جہاں کی ہوا نہایت ہی لطیف اور پاک ہوتی ہے اگر میرے سپرد ایک جماعت کی امامت نہ ہوتی اگر بے وقوفی سے کہو یا ہوشیاری سے ایک کثیر جماعت کی ترقی کا خیال مجھے مدنظر نہ ہوتا تو درحقیقت اب شادی کرنا تو الگ رہا اس کا خیال اور اس کی تحریک بھی میرے دُکھے ہوئے دل کے لئے ٹھیس لگانے کا موجب اور تکلیف دہ ہوتی مگر میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا خطبات محمود جلد ۳ صفحه ۲۰۱ تا ۲۰۴) اس خطبہ نکاح میں تبتل الی اللہ اور دنیوی نعماء سے استفادہ کا صحیح مفہوم اور مومنانہ طرز عمل بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔غرض میں کسی دُنیوی خواہش اور لذت کے لئے اس کام پر آمادہ نہیں ہوا میرا دل ڈرتا ہے کہ وہ جو پہلے ہی غموں اور فکروں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے ایک اور فکر نہ سہیڑ لے۔مگر خدا تعالیٰ سے دعائیں کی ہیں اور میں محض اس نیت سے آمادہ ہوا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے سلسلہ کا ایک جزو جو بہت پیچھے ہٹا ہوا ہے اس ذریعہ سے اس کی ترقی کا سامان ہو ورنہ میں جس قدر اپنے نفس کو ٹولتا ہوں اس کے سوا کوئی خواہش نہیں پاتا اور کوئی ظاہری وجہ نہیں کہ دنیوی فائدہ ظاہر کرتی ہو۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ محض ایک اور صرف ایک غرض اس کام بلکہ اس بوجھ کو اُٹھانے کی محرک ہے اور وہ صرف جماعت کی ہمدردی اور سلسلہ کا مفاد ہے۔میں نے بار بار اپنے دل کو ٹولا ہے اور اس کے چاروں گوشوں کو دیکھا ہے اور بہت غور سے دیکھا ہے اور اس کے سوا میں نے اس میں کوئی اور خواہش نہیں دیکھی لیکن پھر بھی چونکہ انسان کمزور ہے اس لئے میں دعا کرتا ہوں کہ اگر میرے دل کے کسی گوشہ میں اس کے سوا کوئی اور خواہش ہو تو خدا تعالیٰ اسے بدل دے۔میں نے کم از کم تین سو دفعہ استخارہ اور دعا اس شادی کے متعلق کی ہے لیکن اب میں پھر دعا کرتا ہوں کہ اگر میری دعائیں میری نفسانی کمزوری کی وجہ سے قبول نہ ہوئی ہوں تو خدا تعالیٰ اب قبول فرمالے میں شادی کے فرائض اور ذمہ داریوں کو جانتا ہوں۔میں نے بار ہا لوگوں کو بتایا ہے کہ شادیوں کی کیا اغراض ہیں اور آج میں اپنے نفس کو مخاطب کر کے وہی کہتا ہوں جو آج