سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 373
330 اندر ایک ایسا ایمان تھا۔۔۔۔۔با وجود ان کمزوریوں کے جو مجھ میں پائی جاتی ہیں اور باوجود ان غفلتوں کے جو مجھ سے ظاہر ہوتی ہیں میں نے ہمیشہ ان کے ایمان کو خلافت کے متعلق ایسا مضبوط پایا کہ بہت کم مردوں میں ایسا ہوتا ہے۔مجھے فخر ہے کہ ان کی شادی مجھ سے ایسے زمانہ میں ہوئی جبکہ وہ چھوٹی عمر کی تھیں اور مجھے تعلیم دینے اور تربیت کرنے کا موقع مل گیا‘ ( خطبات محمود جلد ۳ صفحہ ۲۰۵) آپا امتہ اٹھی کی وفات پر حضور کو بہت زیادہ صدمہ پہنچا۔ایک ہمہ صفت موصوف بیوی کی وفات پر صدمہ تو طبعی امر ہے مگر حضور کو زیادہ صدمہ اس اہم مقصد کو نقصان پہنچنے کے اندیشہ کا تھا کہ اس طرح عورتوں کی تعلیم و تربیت کے کام میں حرج واقع ہوگا۔آپ فرماتے ہیں:- اسی طرح مجھے اب امتہ الھی کی وفات پر جو افسوس اور صدمہ ہے اور میں اپنے فرائض میں سے سمجھتا ہوں کہ اسے قائم رکھوں اور یہ شقاوت ہوگی اگر (انوار العلوم جلد ۹ صفحه ۸) میں یاد نہ رکھوں“ اسی سلسلہ میں آپ ارشاد فرماتے ہیں :- وو میں امتہ الٹی پر بھی ضرور رویا لیکن پچھلوں کے لئے جن کے متعلق میرا خیال تھا کہ ان کے سر پر سے ایک مفید وجود اُٹھ گیا“ (انوار العلوم جلد ۹ صفحه ۱۲) عورتوں کی تعلیم کے متعلق حضور کا جو منصوبہ تھا اور اس منصو بہ میں حضرت آ پا امتہ اکئی صاحبہ کا جو حصہ تھا اس کے متعلق بیان کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔" مجھے جو افسوس اور غم ہوا ہے وہ اس واسطے ہوا کہ مجھے نظر آتا ہے کہ عورتوں میں جو میں نے تعلیم کے متعلق سکیم سوچی تھی وہ تمام درہم برہم ہوگ ہوگئی۔یورپ کے سفر میں خاص سکیم تعلیم کی تیار کی تھی اور میں نے ارادہ کیا ہوا تھا کہ واپس جا کر اس سکیم کو جاری کروں گا۔لیکن انسانوں میں سب سے زیادہ جس ہستی سے مجھے امید تھی کہ وہ اس سکیم کو چلانے میں میری مددگار ہوگی وہ وفات پاگئی ہے تو اب اس کے بعد اس تمام سکیم کے بدل جانے کی وجہ سے مجھے بہت غم تھا۔درحقیقت انسانوں میں سب سے زیادہ جس ہستی پر مجھے اس تعلیمی سکیم کے متعلق بڑی امیدیں تھیں وہ