سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 372 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 372

329 ہے یہی وجہ ہے کہ حضور نے ہمیشہ ہی اس قربانی کا بہت ہی اچھے لفظوں میں اظہار فرمایا اور اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حضور کی پسند نا پسند کا معیار عام شوہروں سے بہت مختلف محض خدمت دین کا جذ بہ ہی تھا۔حضور کی دوسری شادی کا مختصر ذکر بھی سوانح حضرت فضل عمر جلد دوم صفحہ ۴۵ پر ہو چکا ہے۔حضور نے یہ شادی حضرت خلیفہ اول کی اس خواہش کے احترام میں کی کہ میرے خاندان کا حضرت مسیح موعود سے کوئی تعلق قائم ہو جائے اور اس سے بھی بڑھ کر حضور کی خواہش اور تمنا یہ تھی کہ ان کے ذریعہ عورتوں کی تعلیم و تربیت کا کام بہتر طور پر انجام پائے۔حضور اس شادی کا پس منظر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔وو " میری روح کو امتہ الحی مرحومہ کی روح سے ایک پیوستگی حاصل تھی۔مجھے ہمیشہ حیرت ہوتی ہے اور اس کا ذکر کبھی کبھی میں مرحومہ سے بھی کیا کرتا تھا کہ جب شادی کی تو ان پر احسان سمجھ کر کی تھی کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی خواہش کو پورا کروں کہ مسیح موعود کے خاندان سے آپ کے خاندان کا خونی رشتہ قائم ہو جائے۔“ (خطبات محمود جلد ۳ صفحه ۲۰۴) اس رشتہ کی کامیابی اور اس کے نتیجہ میں حاصل ہونے والے انعامات و برکات کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :- میں نہیں جانتا تھا یہ میری نیک نیتی اور اپنے اُستاد اور آقا کی خواہش کو پورا کرنے کی آرزو ایسے اعلیٰ درجہ کے پھل لائے گی اور میرے لئے اس سے ایسے راحت کے سامان پیدا ہوں گے۔مجھے بہت سی شادیوں کے تجربے ہیں میں نے خود بھی کئی شادیاں کی ہیں اور بحیثیت ایک جماعت کا امام ہونے کے ہزاروں شادیوں سے تعلق ہے اور ہزاروں واقعات مجھ تک پہنچتے رہتے ہیں مگر میں نے عمر بھر کوئی ایسی کامیاب اور خوش کرنے والی شادی نہیں دیکھی جیسی میری یہ شادی تھی ( خطبات محمود جلد ۳ صفحه ۲۰۵٬۲۰۴) اس شادی سے حضور کی اصل غرض جماعت کی مستورات کی تعلیم وتربیت کا اہتمام تھا حضور نے ان کو خود پڑھایا اور اس مقصد کے لئے تیار کیا۔آپ فرماتے ہیں :- مرحومہ کی شکل جسمانی لحاظ سے کوئی اچھی شکل نہ تھی۔۔۔۔لیکن ان کے