سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 371
328 66 کر ہی نہیں سکتا۔“ نیز آپ نے فرمایا : - ( الفضل ۴۔مارچ ۱۹۲۷ء صفحہ ۳) ” میرے نزدیک قرآن سے یہی ثابت ہے کہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنی چاہئیں اور قرآن مجید نے بھی کثرت کو پہلے رکھا ہے۔اور ایک شادی کو بعد میں بیان کیا ہے۔(سورۃ نساء کی آیت وَإِنْ خِفْتُمُ الَّا تُقْسِطُوا کی تلاوت کے بعد فرمایا ) شریعت نے جسے مقدم بیان کیا ہے میں بھی اسے مقدم ہی جانتا ہوں۔اور جسے مؤخر یعنی بعد میں ذکر کیا ہے میں بھی اسے مؤخر ہی قرار دیتا ہوں۔قرآن مجید نہیں کہتا کہ ایک شادی کرو اور اگر اس کے بعد ضرورت پیش آئے تو ایک سے زیادہ شادی کرو بلکہ قرآن مجید نے مَثْنَى وَ تُلكَ وَ ربع کو پہلے رکھا ہے اور پھر کہا ہے کہ اگر دو تین اور چار شادیاں کرنے سے تم پر خوف کی حالت طاری ہوتی ہو تو فَوَاحِدَةً ایک ہی شادی کرو۔تو ایک شادی کی 66 اجازت اس صورت میں ہے جبکہ انسان کو خوف لاحق ہو۔“ ( خطبات محمود جلد سوم صفحہ ۴۷۷ ، ۴۷۸ - الفضل ۲۵۔جون ۱۹۳۸ء) حضور کی پہلی شادی حضرت سیدہ ام ناصر مرحومہ سے ہوئی یہ شادی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہوئی گویا یہ بہو حضور کا اپنے موعود عظیم فرزند کے لئے انتخاب تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس شادی کے لئے سلسلہ جنبانی کرتے ہوئے حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کو جو خط لکھا اس میں اس امر کی صراحت بھی فرمائی کہ :- اس رشتہ پر محمود راضی معلوم ہوتا ہے“ یہ تحریر۱۹۰۲ء کی ہے گویا کم و بیش ایک سو سال پہلے کی۔اُس زمانہ کی عام حالت اور رسم ورواج کو دیکھتے ہوئے بہت ہی عجیب معلوم ہوتا ہے کہ شادی میں بچوں کی رائے کو بھی مدنظر رکھا جائے۔مگر حضرت مسیح موعود جو رسم و رواج کی اصلاح کے لئے ہی بھیجے گئے تھے انہوں نے اپنے طرز عمل سے بتا دیا کہ شادی کے معاملہ میں بچوں کی پسند نا پسند کو بھی ضرور دخل ہونا چاہئے۔اس رشتہ کا ذکر آئے تو حضرت ام ناصر کی اس عظیم قربانی کا ذکر کئے بغیر بات مکمل نہیں ہو سکتی جو آپ نے الفضل کے اجراء کے وقت بہت ہی مشکل اور نا موافق حالات میں کی۔عورتوں کی زیور سے روایتی محبت ایک طرف اور شوہر کی مالی حیثیت ایسی کہ بظاہر زیورات کا دوبارہ بنا نا ممکن ہو آپ کی قربانی کو چار چاند لگا دیتی