سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 365 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 365

321 خاص نور اور ایک خاص شان تھی حیرت ہو رہی تھی کہ یہ اتنی دیر میں بدلی ہوئی ہستی نظر آ رہے ہیں۔تو آپ اتنا خوش ہوئے کہ بے اختیار کہا اچھا! اور خوشی سے آپ کا پُر نور چہرہ مبارک چمکنے لگا تھا۔رہائی کے متعلق ہم کو ابھی علم تک نہ تھا کہ آپ کا تار مبارک باد کا میرے نام پہلے پہنچا۔اس کے بعد باہر سے عزیزی ناصر احمد اور حضرت چھوٹے بھائی صاحب کی آمد کا شور اُٹھا۔ایک واقعہ یاد آ گیا۔عزیزی ناصر احمد کو پہلے قرآن مجید حفظ کرایا گیا تھا دوسری تعلیم برائے نام ساتھ ساتھ چلتی تھی۔ایک دن حضرت اماں جان کے پاس محمد احمد منصور احمد اور ناصر احمد متینوں بیٹھے تھے میں بھی تھی بچوں نے بات کی شاید حساب یا انگریزی ناصر احمد کو نہیں آتا ہمیں زیادہ آتا ہے۔اتنے میں حضرت بھائی صاحب ( حضرت مصلح موعود ) تشریف لائے حضرت اماں جان نے فرمایا کہ ”میاں قرآن شریف تو ضرور ہی حفظ کرواؤ مگر دوسری پڑھائی کا بھی انتظام ساتھ ساتھ ہو جائے کہیں ناصر دوسرے بچوں سے پیچھے نہ رہ جائے مجھے یہ فکر ہے۔اس پر جس طرح آپ مسکرائے تھے اور جو جواب آپ نے حضرت اماں جان کو دیا تھا وہ آج تک میرے کانوں میں گونجتا ہے فرمایا ”اماں جان آپ اس کا فکر بالکل نہ کریں ایک دن یہ سب سے آگے ہوگا إِنْشَاءَ اللَّهُ تَعَالَى اب سوچتی ہوں کہ کیسی اُن کے منہ کی بات خدا تعالیٰ نے پوری کر دی علیم عام میں بھی اور علم خاص میں بھی اور اب قبائے خلافت عطا فرما کر سب سے آگے کر دیا۔رات کو بہت دیر تک کام کرنا پھر سونا پھر ذرا دیر سے تہجد کے لئے اٹھنا گویا رات جاگ کر ہی گزرتی اسی لئے آپ کو بعد نماز صبح سو جانے کی عادت تھی۔مالیر کوٹلہ میں رہائش کا زمانہ ۲۳ء سے لے کر ۴۳ ء تک میرا بہت لمبا رہا۔اکثر قادیان آجاتی تھی چند روز کے لئے حضرت اماں جان کے پاس ہوتی تھی مگر آپ بہت خیال رکھتے کبھی کوئی خاص کھانا پکواتے کبھی پھل لاکر خود رکھلاتے۔رات کو گرمی میں کام کرتے کرتے اُٹھ کر ( ذرا آرام کرنے کو اُٹھتے ////