سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 355 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 355

311 لمبی باتیں کرتے مگر بر وقت اچھے موضوع پر۔میرے بھائی اور ماموں مل کر باتیں کرتے تھے کبھی فضول بات میں نے نہیں سنی۔کیونکہ جہاں یہ سب مل کر بیٹھتے میں ضرور جا پہنچتی تھی۔کئی بار ہنس کر فرماتے تھے کہ :- لڑکی جو وہ لڑکیوں میں کھیلے کہ لڑکوں میں ڈنٹر پہلے۔مجھ سے پچپن سے بے تکلف رہے ہر بات مجھ سے کر لیتے اور میں ہر بات جو نئی سنی یا سمجھ سے باہر ہوئی ان سے پوچھتی۔میری کھل کر بات یا حضرت مسیح موعود سے ہوتی تھی یا بڑے بھائی حضرت مصلح موعود سے۔حضرت مسیح موعود بھی جانتے تھے کہ ہم دونوں کا آپس میں زیادہ پیار اور بے لکھی ہے اور آپ نے بھی تین چار بار مجھ سے کہا محمود کچھ چُپ چُپ ہے یہ کبھی اپنی حاجت نہیں ظاہر کرتا نہ مانگتا ہے تم پوچھو تو سہی کیا چاہئے۔میں نے پوچھا اور آپ نے بتا دیا۔یہ میں لکھ چکی ہوں پہلے کبھی۔ایک بار بخاری کی سب جلدیں منگا نے پورا سیٹ کہا تھا۔ایک بار سول اخبار جاری کروانے کو۔ایک دفعہ بھابی جان کو لاہور گئے زیادہ دن ہو گئے تھے کہا میں ان کا لاہور زیادہ رہنا پسند نہیں کرتا بلوا لیں۔ہم لوگ لڑتے نہیں تھے کم از کم بہنوں سے لڑنے کی تو قسم ہی ہمارے ہاں تھی۔مبارک احمد اور میں چھوٹے تھے۔تینوں بھائیوں نے کبھی کچھ نہیں کہا۔آپس میں منجھلے بھائی چھوٹے بھائی کبھی تکیوں سے لڑائی گویا جنگ مصنوعی کیا کرتے تھے۔یا چھوٹے بھائی صاحب کو منجھلے بھائی صاحب چڑاتے تھے وہ چڑتے مگر اس سے زیادہ ہرگز نہیں نہ مار نہ کٹائی۔ایک بار کوڑا چھپائی کھیلتے ہوئے مبارک کی پیٹھ پر کوڑا زور سے مار دیا۔وہ نازک سا بچہ تھا رونے لگا مجھے آج تک افسوس ہے اپنی اس حرکت کا کہ میں نے پکار کر حضرت مسیح موعود کو کہا کہ مبارک کو چھوٹے بھائی نے زور سے کوڑا مار دیا تو آپ چھوٹے بھائی پر بہت خفا ہوئے تھے۔اصل میں ہم دونوں آپس میں بہت مانوس تھے (مبارک اور میں)