سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 354 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 354

310 قومی بدن نہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پڑھائی کے لئے کبھی بھی نہیں کہا کہ محنت کرو وغیرہ۔ابتداء سے اپنی دینی کتب ، قرآن مجید، حدیث اور دیگر مذاہب کی کتا ہیں۔اور اس کے علاوہ کہانی قصہ بھی پڑھ لیتے تھے۔چھوٹی چھوٹی انگریزی ابتدائی کتابیں اور الف لیلہ بھی۔مجھے بھی چھوٹی چھوٹی کہانیاں الف لیلہ کی بھی سنا دیتے تھے۔دیوان غالب وغیرہ اور آپ کے استاد ( جن سے کچھ عرصہ اصلاح لی تھی شاعری کے سلسلہ میں ) جلال لکھنوی کے دیوان بھی آر کے پاس تھے۔میری ہوش میں بہت کم عمری سے میں نے بڑے بھائی ( حضرت مصلح موعود ) کا کمرہ الگ دیکھا جس میں کتا بیں رکھی رہتی تھیں میز پر۔میں بھی وہاں جا پہنچتی تھی۔سوال نمبر ۴ : گھر میں کھیلنے کا ذکر اور بچوں سے سلوک۔آپ گھر میں کھیلتے تھے اکثر وقت پا کر جو صحن خالی ہو اس میں گیند بلا وغیرہ اور اس کے علاوہ گھر کے باہر آپ کے مشاغل غلیل سے نشانہ بازی، کشتی چلانا، تیرنا وغیرہ تھے۔مٹی کے غلے بنانے میں ہم سب شریک ہو جاتے۔مگر گھر میں نہیں چلاتے تھے یہ کام باہر ہوتا تھا گھر میں تو کبھی نشان لگا کر غلیل چلا کر دیکھ لیا۔اور اس سے ذرا بڑے ہوئے تو سواری سیکھی اور گھوڑے کی سواری کو بہت پسند کرتے تھے۔آپ ہم بچوں سے بہت پیار کرنے والے بیحد خیال رکھنے والے تھے۔مجھے تو خاص طور پر بہت محبت کی ، بہت ناز اُٹھائے۔کبھی خفا ہونا یاد ہی نہیں۔ایک بار لڑکیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی لڑکیوں نے کوئی کھیل تالی بجانے والا کھیلا۔میں بھی بجانے لگی تو مجھے کہا کھیلو مگر تم نہ کبھی تالی بجانا یہ لوگ بجایا کریں۔مبارک ( ایک خط میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میرے میاں کو لکھا ہے محمود اپنی والدہ سے بہت مانوس ہے اور مبارک سے بھی اب تک کھیلتا ہے ابھی بچہ ہی ہے) سے بھی بہت پیار کا سلوک تھا دوسرے بھائیوں سے بھی کبھی میں نے سختی کا سلوک یا جھگڑا نہیں دیکھا۔منجھلے بھائی صاحب سے تو اکثر