سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 25 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 25

25 میں پہلے سے ہی یورپ میں تھا مجھے بھی حاضر ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔ایک آراستہ رہائش 6- پیہم پیلس کو افراد قافلہ کی رہائش کے لئے کرایہ پر حاصل کر لیا گیا تھا۔وہاں پر ہم سب اکٹھے ہو گئے۔تمام انتظامات کم سے کم اور سادہ تھے لیکن اس موقع پر ہمیں بہت دلفریب اور پرمسرت صحبت سے مستفیض ہونے کا موقع ملا۔حضرت صاحب نے راستہ میں فلسطین اور شام دیکھے اور روم میں مختصر سا قیام فرمایا۔میں نہایت مناسب ایسے وقت میں لنڈن پہنچ گیا۔جبکہ پارٹی کے استقبال کا شرف حاصل کر سکتا تھا۔میں اس وقت ایک ہی واقعہ پر اکتفا کرونگا۔یہ ایک ایسا مبارک موقع تھا جبکہ ہمیں حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایده الودود اور بہت سے معروف اور واجب الاحترام بزرگوں کی کئی ہفتوں تک بے تکلف صحبت کا شرف حاصل ہوا۔ہم نے اس دوران میں بہت کچھ سیکھا اور مشاہدہ کیا۔ہم میں سے ہر شخص یہ محسوس کرتا تھا گویا کہ وہ ارسطو کی روحانی اکادمی کا ایک فرد ہے۔ہر قسم کے معاشرتی و اقتصادی اور اخلاقی و روحانی مسائل و موضوعات پر خیالات کا اظہار ہوتا۔بحث کی جاتی اور فیصلے کئے جاتے تھے۔بعض اوقات حضرت صاحب اور حافظ روشن علی صاحب مرحوم کے مابین گفتگو لمبی ہو جاتی اور حافظ صاحب نہایت معقولیت صفائی استقلال کے ساتھ اپنی بات پر جمے رہتے تو اس کے نتیجہ میں کوئی بھی پہلو تحقیق سے بچا نہ رہتا۔یہ بخشیں عقل رسا کو جلا دینے والی ہوتی تھیں اور ہم علم وعرفان کے ان خزانوں سے بہت استفادہ کرتے جو دورانِ گفتگو کسی بات پر مخالفت اور حق میں دلائل کے نتیجہ میں بالکل صاف ہو جاتے۔ہر شخص تشریح و توضیح کے اس شاندار طریق پر مسرت سے جھوم جھوم جاتا۔یہ موقع بہت ہی مسرت بخش اور بیش قیمت تھا۔بے لوث ہمدردی و نوازش، گہری محبت و شفقت اور اطاعت و خدمت کا وہ میثاق جو ہم نے اپنے محترم و محبوب امام کے ساتھ باندھا تھا۔ان سب نے مل کر ہمارے جسموں میں زندگی کی ایک نئی لہر دوڑا دی۔حضرت صاحب نے کانفرنس کے لئے اپنا مقالہ اردو میں تحریر فرمایا تھا اور اسے انگریزی میں ترجمہ کرنے کیلئے مجھے ارشاد کیا گیا تھا۔مقالہ پڑھے جانے سے