سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 321 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 321

287 کامیابی حاصل کی ہے یہ ممبر ساری اسلامی دنیا کیلئے ایک قابل فخر ہستی ہے۔آج اس عظیم الشان جماعت کے عظیم الشان لیڈر کی تقریر سننے کیلئے ہم یہاں جمع ہوئے ہیں اور میں اس بات پر فخر کرتا ہوں کہ آج صدارت کے لئے مجھے ( الفضل ۱۲، ۱۹۔دسمبر ۱۹۶۲ء) چنا گیا۔“ سفر دہلی ۲۱۔ستمبر ۱۹۴۶ء کو حضور اپنے مشہور سفر دبلی پر تشریف لے گئے ، یہ وہی سفر ہے جس میں حضور کی غیر معمولی دعاؤں اور کوششوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے قیام پاکستان کے سلسلہ میں پیش آنے والی بڑی بڑی روکیں دور ہوئیں اسکا ذکر بھی خدمات کے سلسلہ میں ہو چکا ہے ) جماعت نے بھی اس بابرکت موقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی۔مجالس علم و عرفان منعقد ہوتی رہیں ، مسجد احمد یہ دریا گنج میں تین خطبات ارشاد فرمائے ،۲۹۔ستمبر کو خدام الاحمدیہ اور یکم اکتوبر کو خواتین سے خطاب فرمایا۔۹۔اکتوبر کو اسلام دنیا کی موجودہ بے چینی کا کیا علاج پیش کرتا ہے“ کے موضوع پر تقریر فرمائی۔۱۰۔اکتوبر کو مشہور ادیب ، صحافی خواجہ حسن نظامی صاحب جو اپنا وسیع حلقہ ارادت رکھتے ہیں سے ملاقات ہوئی۔محترم خواجہ صاحب اس ملاقات کا بڑے اچھے رنگ میں ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- آج شام کو نئی دہلی میں چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب کے مکان پر جناب مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ جماعت احمدیہ سے ملنے گیا تھا۔ڈیڑھ گھنٹہ تک باتیں کیں۔ان کو مسلمان قوم کے ساتھ جو مخلصانہ ہمددردی ہے وہ سنکر میرے دل پر بہت اثر ہوا اور میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ آج ایک ایسے لیڈر سے ملاقات ہوئی جسکو میں نے بے غرض مخلص سمجھا ورنہ جو لیڈر ملتا ہے کسی نہ کسی غرض میں مبتلاء نظر آتا ہے، مرزا صاحب مخلص بھی ہیں ، دانش مند بھی ہیں ، دور اندیش بھی ہیں اور بہادرانہ جوش بھی رکھتے ہیں۔“ ( منادی ۲۴۔اکتوبر ۱۹۴۶ء۔بحوالہ الفضل ۸۔نومبر ۱۹۴۶ء صفحه ۲) دہلی سے واپسی پر اپنے الوداعی خطاب میں تبلیغی فرائض کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور نے فرمایا۔