سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 322
288 ”ہندوستان مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مولد ہے اس لئے بھی اور اس لئے بھی کہ دہلی ہندوستان کا صدر مقام ہے۔دہلی والوں پر خاص کر بہت زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ہندوستان میں اس وقت چالیس کروڑ آدمی بستے ہیں، ان میں سے دس کروڑ مسلمان ہیں گویا 1/4 حصہ آبادی کو حضرت معین الدین چشتی ” اور قطب الدین بختیار کاکی ، حضرت نظام الدین اور دوسرے بزرگان نے مسلمان کیا۔اب تمہارے لئے موقع ہے کہ اس کام کو سنبھالو۔تین چوتھائی کام تمہارے حصہ میں آیا ہے۔اس کا پورا کرنا تمہارے ذمہ ہے۔خدا تعالیٰ مجھ کو اور تم کو اس فرض کے ادا کرنے کی توفیق بخشے۔وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ “ الفضل ۱۶۔نومبر ۱۹۴۶ء صفحه ۸) ۱۱۔نومبر ۱۹۴۹ء کو حضور ایک پبلک لیکچر کیلئے سرگودہا تشریف لے گئے۔سفر سرگودہا مکرم مرزا عبد الحق صاحب اور مکرم صاحب خان صاحب نون نے اس موقع سے بھر پور فائدہ اٹھانے کیلئے معززین علاقہ کو مدعو کیا عام خطاب سے پہلے حضور نے ان سے ملاقات فرمائی۔عام لیکچر کیلئے کمپنی باغ میں انتظام کیا گیا تھا۔تقریر کے مقررہ وقت سے بہت پہلے ہی لوگ جلسہ گاہ میں جمع ہو گئے۔حضور کے تشریف لانے میں کچھ دیر ہوگئی۔احباب کی خواہش پر مکرم مولانا ابو العطاء صاحب نے قریباً ایک گھنٹہ بہت بر جستہ اور مؤثر خطاب فرمایا۔حضور کی تقریر چار بجے سہ پہر شروع ہوئی اور چھ بجے تک جاری رہی۔حضور نے اہلِ پاکستان کی ذمہ داریوں کی طرف اتنے پر اثر انداز میں خطاب فرمایا کہ ہزاروں کا مجمع پورے سکون اور توجہ سے سنتا رہا اور بعد میں معززین علاقہ نے اس پر اثر خطاب کی بہت تعریف کی اور برسوں بعد تک بھی اس جلسہ کی کامیابی کا تذکرہ مجالس میں ہوتا رہا۔سفر بھیرہ حضرت فضل عمر نے اپنی حرم محترم حضرت سیدہ امتہ الحی صاحبہ سے بھیرہ جانے کا وعدہ کیا ہوا تھا۔جسکا آپ نے بار ہا ذکر فرمایا اور یہ بھی کہ مرحومہ کی زندگی میں وہاں جانے کا اتفاق نہ ہو سکا۔اس طرح آپ نے اپنے اس ارادہ اور خواہش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : - " بھیرہ جانے کا ارادہ مدت سے ہے کیونکہ وہ حضرت خلیفہ اول (الفضل ۷۔جنوری ۱۹۳۰ء۔انوار العلوم جلد ا ا صفحه ۸۶) کا وطن ہے“ اپنی اس دیرینہ خواہش ( جس میں اپنے قابل احترام استاد حضرت خلیفہ اول کی عزت و اکرام