سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 284 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 284

262 ہے، اور انسان کو اکتا دینے والا شغل ہو سکتا ہے، لیکن باوجود بیمار ہونے کے، با وجود اس مصروفیت کے جو ایام جلسہ سے پہلے سیدہ امتہ الحئی صاحبہ کی علالت کے باعث تھی، اور واپسی سفر سے اب تک سلسلہ کی عام مصروفیتوں میں جس قدر تکان ہو سکتی ہے وہ نمایاں ہے، لیکن یہ انتھک وجود اپنے اس طرز عمل سے قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کا ثبوت دیتا رہا۔یہ خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت ہی ہے جو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا ہاتھ تھامے ہوئے ہے ورنہ ایک دنیاوی انسان ہرگز ہرگز اس بارگراں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔لیکن باوجود اس مصروفیت کے حضور کو مہمانوں کے آرام و آسائش کا اس قدر خیال تھا کہ آپ روزانہ انتظام جلسہ کے متعلق با قاعدہ رپورٹ لے کر منتظمین جلسہ کوضروری ہدایات فرماتے تاکہ کسی مہمان کو کوئی تکلیف نہ پہنچے الفضل ۶ /جنوری ۱۹۲۵ء صفحه ۴ ) حضور کے مندرجہ ذیل بیان سے بھی حضور کی غیر معمولی مصروفیات کا اندازہ ہوسکتا ہے:۔میں ہمیشہ عام طور پر جلسہ کی تقریروں کے نوٹ دوران جلسہ میں لیا کرتا ہوں چونکہ فرصت نہیں ہوتی اس لئے میرا قاعدہ ہے کہ سفید کاغذ تہہ کر کے جیب میں رکھ لیا کرتا ہوں اور دوسرے کاموں کے دوران میں جو وقت مل جائے اس میں کا غذ نکال کر نوٹ کرتا رہتا ہوں۔مثلاً ڈاک دیکھ رہا ہوں دفتر والے کاغذات پیش کرنے کے لئے لانے گئے اور اس دوران میں میں نوٹ کرنے لگ گیا یا نماز کے لئے تیاری کی سنتیں پڑھیں اور جماعت تک جتنا وقت ملا اس میں نوٹ کرتا رہا۔اس طرح میں یہ تیاری پندرہ سولہ دسمبر سے شروع کر دیا کرتا تھا اور قریباً ۲۲ ۲۳ دسمبر تک کرتا رہتا اور اس کے بعد دوسرے کاموں سے فراغت حاصل کر کے نوٹوں کی تیاری میں لگ جاتا لیکن ان کو درست کر کے لکھنے کا کام میں بالعموم ۲۷، ۲۸ کو کرتا تھا اور اس کے لئے وقت انہی تاریخوں میں ملتا تھا۔اس وجہ سے طبیعت میں کچھ فکر بھی رہتا تھا کہ صاف کر کے لکھ بھی سکوں گا یا نہیں۔لیکن اس دفعہ قرآن کریم کی تفسیر کا کام رہا اور اس کیلئے وقت نہ تھا۔۲۲ کی شام کو ہم تفسیر کے کام سے فارغ ہوئے ،۲۳ کو بعض اور کام کرنے تھے وہ کئے ،۲۴ کی شام کو