سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 283 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 283

261 کی تعمیر کے سارے مراحل اس حسن و خوبی اور محنت و توجہ سے طے فرمائے کہ : - اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کی بات نہیں مکرم ملک صلاح الدین صاحب ایم اے جو ایک عرصہ تک حضور کے پرائیوٹ سیکرٹری کے طور پر خدمت بجالاتے رہے اپنی ایک یادداشت میں لکھتے ہیں۔چونکہ حضور کی مصروفیات بے اندازہ تھیں بعض دفعہ اہم مرافعات میرے چارج لینے پر۔مجھے ملے حضور کو وقت نہ ملتا تھا۔میں نے یہ ترکیب نکالی کہ پنشنوں کے مرافعات میں صدر انجمن کا نقطہ نظر اور مرافعہ کنندہ کا نقطۂ نظر نہایت مختصر لکھ کر ملاقاتوں کی فہرست والے رجسٹر کے ساتھ ایک ایک کر کے بھیج دیتا اور حضور اس پر فیصلہ رقم فرما دیتے۔اسی طرح ایک میاں بیوی کے مقدمہ کا مرافعہ بھی اسی رنگ میں پیش کر کے فیصلہ کرایا تھا۔حضور مکان کی بنیا درکھنے ولیمہ یا رخصتانہ کی تقریبات یا کسی مبلغ وغیرہ کی آمد کے سلسلہ میں تشریف لے جاتے تو خاکسار اس آمد و رفت کے وقت کو غنیمت جان کر ، یا لاہور کے سفر آمد و رفت میں اگر حضور کے ہمراہ بیٹھنے کا موقع ملے ) ضروری امسلہ اور کاغذات پیش کر کے ہدایات حاصل کر لیتا تھا۔ایک دفعہ کا مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ قادیان سے لاہور تک خطوط وغیرہ پیش کئے اور ان ہدایات کے صاف لکھنے پر میرے کئی گھنٹے صرف ہوئے۔خبار الفضل حضور کی مصروفیات کے سلسلہ میں رقم طراز ہے: حضرت خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ بصرہ کی مصروفیت کا اُن دنوں یہ عالم تھا کہ آپ علاوہ روزانہ کاموں کو سرانجام دینے کے نماز عشاء کے بعد سے ایک ایک بجے رات تک اور صبح کی نماز سے نو بجے تک مختلف جماعتوں سے ملاقات فرماتے رہتے تھے۔یہ آپ کے روزانہ فرائض کے علاوہ تھا۔جلسہ کے موقع پر جو عظیم الشان تقاریر آپ نے فرمائیں ان کے لئے نوٹ لکھنا، ملاقاتوں میں جماعتوں کی راہنمائی کے لئے مختلف امور سلسلہ کے متعلق ہدایات دینا، احباب کے ذاتی اور ضروری معاملات کے متعلق مشورے دینا، یہ ایک ایسا اہم اور گراں فرض ہے کہ ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔محض مصافحہ کرنا بھی ایک بڑا کام ہو جاتا