سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 234 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 234

221 ان کی مساعی سے آشکار ہورہی ہے۔چنانچہ انہوں نے مسلم ممالک میں اپنے حمد نی مشنز بھجوا کر اور افریقہ میں اپنے مقبوضہ مسلم علاقہ کی آزادی کا اعلان کر کے اسی بات کا واضح ثبوت فراہم کیا ہے۔آج کل سپین میں یہ مقولہ مشہور ہے کہ پیرا نیز پہاڑ سے ہی افریقہ شروع ہو جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سپین اور افریقہ میں گہرا تمدنی تعلق ہے۔ماضی اور حال کے ان مختلف حقائق و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے آج سپین گورنمنٹ کا یہ حکم خاص طور پر اسلامی دنیا کے لئے حیران کن اور انتہائی تکلیف دہ ہے اور طبعا دل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ سپین اور اسلامی دُنیا کی دوستی اور تعلقات کیا صرف ایک کھوکھلی نمائش ہے اور کیا آج بھی سپین میں پُرانے زمانہ کی طرح اسلام کے متعلق بغض موجود ہے۔اگر ان حقائق کو نظر انداز کر دیا جائے تو پھر بھی مذہب کی تبلیغ ہر ایک انسان کا بنیادی حق ہے جس کو حکومت سپین نے اپنے حکم کے ذریعہ سے ختم کرنا چاہا ہے۔اس کے متعلق حکومت پاکستان کو غور و فکر کرنا چاہئے اور اس کے جواب میں اسے سفارتی کارروائی اور حکومتی خط و کتابت کے علاوہ حکومت کو اپنے ملک میں دوسرے مذاہب کے مبلغین کے بارے میں بھی نئے سرے سے اُصول وضع کرنے چاہئیں۔اس ضمن میں ہماری ہمسایہ حکومت بھارت کا رویہ بھی قابل غور ہے۔نہ معلوم اس سلسلہ میں ہماری حکومت نے بھی کچھ غور وفکر کیا ہے یا نہیں، (الفضل ۴۔جولائی ۱۹۵۶ء صفحہ ۳) پاکستان کے مخصوص پس منظر میں تبلیغ واشاعت اسلام کے لئے متحد ہو جانے کی زور دار تحریک کی رپورٹنگ کرتے ہوئے اخبار ”المصلح“ نے لکھا :- حضرت امام جماعت احمدیہ نے آج بیچ لگژری (BEACH LUXURY) ہوٹل میں تقریر کرتے ہوئے تمام مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے باہمی اختلافات کو نظر انداز کر کے اشاعت و تبلیغ اسلام کے اہم کام کے لئے متحد منظم ہو جائیں اور ان اعتراضات کا علمی جواب دیں جو یورپ اور دوسرے ممالک کی غیر مسلم دنیا اسلام اور محمد رسول اللہصلی اللہ الیکم کے مقدس وجود پر کر رہی ہے۔۔۔امام جماعت احمدیہ نے فرمایا۔اگر اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ یو ای دلم