سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 233 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 233

220 بڑے سے بڑے نقاد بھی انکار نہیں کر سکتے کہ مغربی ممالک میں اسلام کا پیغام صرف جماعت احمد یہ ہی اپنی ان تھک کوششوں کے ذریعہ پہنچا رہی ہے۔قریباً ہر ایک ملک میں ہر ایک مذہب کو اپنی اشاعت کا کم و بیش موقعہ ملتا ہے اور یہی بین الا قوامی مسلمہ اصول ہے لہذا سپین کی حکومت کا اس بنیادی حق کو چھینا ایک ایسا امر ہے کہ جس پر جماعت احمدیہ کے ممبران بے چین ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے اور اس معاملہ میں دوسرے مذاہب کے مشنری اور تمام رواداری برتنے والے اور بین الا قوامی انسانی حقوق کی حفاظت کے خواہاں اصحاب بھی جماعت احمدیہ کی ہمنوائی کریں گے۔حکومت سپین کا قابلِ نفرت حکم ہمارے سامنے پُرانے زمانہ کے ایسا بیلا (ISABELLA) اور فرڈی نینڈ (FERDINAND) کی حکومت کا نقشہ پیش کرتا ہے۔نیز ہمیں سپین میں عرب تمدن کے سنہری زمانہ اور طارق و موسیٰ بن نصیر کی بے نظیر جرات بھی یاد دلاتا ہے۔درحقیقت عربوں نے ہی سپین کی تاریخ کو بنایا تھا۔انہوں نے اپنے زمانہ میں عمارت سازی ، انڈسٹری ،علم موسیقی ، ادب اور علوم وفنون کو ترقی دی تھی مگر وقتی طور پر عربوں کی یہ جلائی ہوئی شمعیں ناموافق حالات کی وجہ سے بجھا دی گئیں مگر کچھ عرصہ بعد وہی یورپ کے ظلمت کدوں میں روشن ہو گئیں۔اسی کو تاریخ میں یورپ کی نئی زندگی RENAISSENCE کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ایک وقت تھا کہ سپین سے عرب حکومت کو اور مسلمانوں کو بہ نوک شمشیر نکال دیا گیا مگر ایسا کرنے والوں نے اسلام کو سپین سے نکال کر عربوں سے زیادہ خود یورپ کے تمدن کو نقصان پہنچایا۔اسی وجہ سے مشہور عیسائی مؤرخ لین پول لکھتا ہے :- اسی طرح سے سپین والوں نے اس عرب فنس کو قتل کر دیا جو روزانہ ایک سُنہری انڈا دیا کرتا تھا۔اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ کا تمدن پانچ سو سال پیچھے پڑ گیا مندرجہ بالا تمام حقائق سپین کے موجودہ مد تر بھی تسلیم کرتے ہیں اور آجکل جنرل فرانکو سپین کی اس پرانی غلطی کا ازالہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یہ حقیقت