سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 10 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 10

10 صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی زیارت کا یہ میرا پہلا موقع تھا۔مجھے وہ جگہ جہاں میں نے پہلی دفعہ آپ کی زیارت کی تھی اور آپ کا پندرہ سولہ برس کا سن خوب اچھی طرح یاد ہے۔میری عمر اس وقت گیارہ برس کی تھی۔اتنی عظیم اور بلند شخصیت کے دیدار کی سعادت حاصل کرنے پر میرا دل خوشی سے جھوم اُٹھا۔میں آپ کی خدمت میں سلام عرض کرنے اور ملاقات کرنے کی جسارت نہ کر سکا جس طرح کہ ایک انسان چاند تک پہنچنے اور اسے سلام کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔بعد ازاں مجھے اپنے والد صاحب کے ہمراہ ستمبر اور پھر دسمبر میں جلسہ سالانہ کے موقع پر قادیان جانے کا اتفاق ہوا۔صاحبزادہ صاحب کو آتے جاتے گزرتے اور دیکھنے کے مواقع میسر آتے رہے لیکن میں آپ سے ملاقات کرنے کے لئے اپنے قومی اور حوصلوں کو مجتمع نہ کر سکا۔۱۹۰۷ء میں میٹرک کر لینے کے بعد میں لاہور چلا آیا تو پھر وقتاً فوقتاً قادیان جاتا رہا لیکن ہم دونوں میں یہ فاصلہ معدوم نہ ہو سکا۔در حقیقت خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تمام افراد اور آپ کے نزدیکی عزیز واقارب یا آپکے متعلقین کا روحانی رُعب اور ان کی بے پناہ تعظیم و توقیر کے جذبات میرے دل میں جاگزین تھے۔چنانچہ جب ۱۹۱۰ء میں صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب مرحوم نے اسی کالج میں داخلہ لیا جہاں میں پڑھتا تھا۔تب ذرا بے تکلفی سے ان کے بارے میں علم حاصل ہونے کا موقع ملا۔اگست ۱۹۱۱ء میں خاکسار اپنے والدین کے ہمراہ الوداع ہونے کے ارادے سے آیا ( مجھے یقین ہے کہ میری والدہ صاحبہ کے قادیان تشریف لانے کا یہ پہلا موقع تھا) کیونکہ خاکسار قانون کی تعلیم کے لئے انگلستان جارہا تھا۔چنانچہ یہی وہ موقع تھا جب کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے کہنے پر مجھے بڑے صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا۔میں نے اپنے سفر انگلستان کے بارے میں انہیں بتایا اور اپنے لئے دعا کی درخواست کی۔آپ نے مجھے دانش وراہنمائی کی بعض نہایت مناسب ہدایات سے نوازا۔یہ ملاقات چند