سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 192
188 انہوں نے کہا: ”یہ نہیں چلتا۔استخارہ کر رہا ہے“ استخارہ ایک مذہبی اصطلاح ہے، اس پر حضور کو سخت غصہ آیا اور آپ نے قافلہ کے اس ساتھی کو جو حضور کا بہت قریبی عزیز تھا وہاں سے واپس کر دیا اور اپنے ساتھ جانے کی اجازت نہ دی کیونکہ آپ مذہبی اصطلاحات اور شعائر کا احترام ضروری سمجھتے تھے۔( ملت کا فدائی صفحہ ۱۰۹،۱۰۸) قیام سنت پر آپ کا خوش ہونا اور اس کا اس طرح بیان آپ کی سیرت کے کئی پہلو نمایاں کرتا ہے :- پرانے بازار کے آگے جب نیا بازار بنا تو میں بہت خوش ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ و آلہ سلم کی اس تعلیم پر عمل ہونے لگا ہے کہ بازار چوڑے ہونے چاہئیں تا لوگوں اور سواریوں کو گزرنے میں تکلیف نہ ہو لیکن اب مجھے کبھی بازار سے گزرنے کا اتفاق ہو تو میں دیکھتا ہوں کسی نے دوفٹ آگے بڑھا کر تھڑا بنایا ہوا ہے اور کسی نے تین فٹ پھر چھ مہینہ کے بعد گزریں تو وہی تھڑے چار چارفٹ کے بن چکے ہوتے ہیں۔ان مسائل سے ناواقف رہنے کی وجہ سے معلوم نہیں ہیں۔کتنی لعنتیں پڑتی رہتی ہوں گی“ الفضل ۲۔جولائی ۱۹۳۷ ء صفحہ ۸) حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب کی دعوت ولیمہ کی تقریب پر لوگ بہت زیادہ تعداد میں آگئے کھانا مدعووین کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت زیادہ مقدار میں تیار کیا گیا تھا مگر اس کے باوجود کھانا کم پڑ گیا۔حضور کی ہدایت پر بہت سے ایسے مہمانوں کو جو قریبی اور قادیان کے رہنے والے تھے دوسرے دن کھانے کے لئے آنے کا کہہ کر واپس جانے کے لئے کہا گیا اور انہیں بعد میں کھانا کھلایا گیا۔اس بدانتظامی کے تدارک اور تربیت کے لئے حضور نے جماعت کو اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا :- میں نے کئی دفعہ اپنے خطبات میں جماعت کے احباب کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ مومن کا ہر کام عقل کے ماتحت ہونا چاہئے۔مومن اور بیوقوفی جمع نہیں ہوسکتی اس لئے کہ بیوقوفی کی بات پر لوگ ہنسا کرتے ہیں اور مومن اپنی کامیاب را ہوں میں جنسی کے قابل نہیں ہوتا۔دشمن ہنسے تو ہنسے جائز طور پر اس کی کسی بات پر ہنسی نہیں کی جاسکتی کیونکہ خدا تعالیٰ نے مومن کو عزت کے لئے بنایا