سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 193 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 193

189 ہے ہنسی کے لئے نہیں بنایا اور جسے خدا نے عزت کے لئے بنایا ہو اس کی باتیں ہنسی کے قابل نہیں ہونی چاہئیں۔تا کہ وہ اس مقام سے نہ گر جائے جس پر خدا تعالیٰ نے اسے کھڑا کیا ہے۔مگر با وجود بار بار توجہ دلائے جانے کے ہمارے احباب ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں جو بعض دفعہ غلط اخلاص کی وجہ سے، بعض دفعہ غلط محبت کی وجہ سے ، بعض دفعہ بیوقوفی کی وجہ سے اور بعض دفعہ بعض لوگوں کی منافقت کی وجہ سے مضحکہ انگیز ہو جاتی ہیں۔پچھلے دنوں ایک واقعہ ہمیں ایسا پیش آیا ہے کہ گو میں اپنی طبیعت کے لحاظ سے اس کے بیان کرنے پر شرم محسوس کرتا ہوں یا اس لئے کہ اپنے دوستوں کے نقص کا ذکر کرنا پڑتا ہے۔مجھے اس کے بیان کرنے میں شرم محسوس ہوتی ہے مگر چونکہ میرے سپر د جماعت کی تربیت کا کام بھی ہے۔اس لئے میرا فرض ہے کہ گو مجھے اس کے بیان کرنے پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔لوگوں کے سامنے بیان کروں“ خطبات محمود جلد ۱۵ صفحه ۲۲۱٬۲۲۰) اس کے بعد حضرت امام جماعت نے رسول کریم صلی علیہ السلام کی ایک شادی کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ جب لوگ کھانا وغیرہ کھا چکے تو اسی جگہ بیٹھ کر آپس میں باتیں کرنے لگ گئے۔رسول کریم صلی للہ والی ہم چاہتے تھے کہ لوگوں نے جب کھانا کھالیا ہے تو چلے جائیں اور اگر با تیں ہی کرنی ہیں تو باہر جا کر کریں مگر آپ خاموش رہے اس پر خدا تعالیٰ نے یہ حکم نازل کیا کہ جب کسی کے ہاں کھانا کھانے جاؤ تو کھا کر وہاں بیٹھے نہ رہو بلکہ جب کھانا کھا چکو تو چلے آؤ۔تب آپ نے اس حکم کو بیان کیا گو اس کے بیان کرتے وقت بھی آپ شرم محسوس کرتے تھے۔حضرت صاحب نے فرمایا : - ” وہ واقعہ جس کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے میرے لڑکے کے ولیمہ کی دعوت ہے۔ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے قادیان میں آٹھ ہزار کے قریب ہے یعنی ان گاؤں کے احمدیوں کو ملا کر جو ایک رنگ میں قادیان کا ہی حصہ ہیں۔اتنی آبادی ہے سات ہزار دوسو سے کچھ اوپر تو قادیان کی احمدی آبادی ہے اور باقی آٹھ سو ملحقہ دیہات کے احمدیوں کی۔“ اس کے آگے حضرت صاحب نے مکانوں کی تعداد کرائے کے مکانوں کا اور افراد کا ذکر کیا ہے۔اور فرمایا کہ:-