سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 186 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 186

182 علیہ السلام کی جماعت میں داخل ہوں لیکن دوسرا حکم وقتی ہے اور حالات کے ماتحت بدلتا رہتا ہے آج یہاں انگریزوں کی حکومت ہے اور ہم اس کے وفادار ہیں لیکن کل یہ بدل گئی تو ہم اس نئی حکومت کے وفادار ہوں گے اس کے بالمقابل خلافت نہیں بدل سکتی اس وقت میں ہی خلیفہ ہوں اور میری موت سے پہلے کوئی دوسرا خلیفہ نہیں ہوسکتا، ( الفضل یکم نومبر ۱۹۳۴ صفحه ۴ ) اطاعت کی اہمیت کو مزید واضح کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :- وہ قوت ارادی جس سے دنیا فتح ہوسکتی ہے اسی صورت میں پیدا ہوسکتی ہے جب کامل اطاعت اور فرمانبرداری کا مادہ انسان کے اندر ہو، جب وہ حیل و حجت نہ کرے ، جب وہ اپنی تجویزوں اور قیاسات سے کام لینے کی بجائے اس حکم کو سنے جو اسے دیا گیا ہو اور اس پر پوری طرح عمل کرے اگر انسان اس بات کی عادت ڈال لے تو اس صورت میں اسے بہت جلد کامیابی حاصل ہوسکتی ہے“ (الفضل ۱۹۔اگست ۱۹۳۶ ، صفحه ۵) ایک مبلغ کی بیرون ملک روانگی کے موقع پر حضور نے انہیں اپنے دستِ مبارک سے کچھ نصائح لکھ کر دیں۔ان نصائح میں وقت کی اہمیت اور ذمہ داری کے مختلف انداز، وسعت حوصلہ اور علو ہمتی ، وسعت مطالعہ، افسروں کی اطاعت ، دعا اور اخلاق فاضلہ سے مزین ہونے کی نہایت جامع اور مؤثر تلقین ہے۔آپ فرماتے ہیں :- آپ واقف زندگی ہیں، تعلیم یافتہ ہیں، ایک فن جانتے ہیں، نوکری کرتے یا اپنا کام کرتے تو اپنی حد کے اندر دنیا کماتے ، رشتہ داروں کی ترقی کا موجب ہوتے لیکن اب آپ نے خدا تعالیٰ کے لئے اپنے ارادوں کو قربان کر دیا ہے یہ نازک مرحلہ ہے ایک قدم ادھر سے اُدھر ہو کر قعر مذلت میں گرا سکتا ہے۔اپنے عہد پر قائم رہیں تو دین و دنیا آپ کی ہے اس میں ذرہ سی لغزش ہو تو تباہی اور بربادی ہے۔آپ نے دین کے لئے زندگی وقف کی ہے لیکن آپ کو تجارت کے لئے بھجوایا جا رہا ہے۔یہ عجیب بات نہیں۔ساری فوج لڑے تو شکست یقینی ہے۔کچھ لوگ گولہ بارود بناتے ہیں ، کچھ روٹی کماتے ہیں، کچھ بندوقیں تیار کرتے ہیں ، کچھ کپڑے، کچھ بوٹ، کچھ موٹر بناتے ہیں اگر یہ لوگ اپنے کام پر