سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 187 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 187

183 خوش نہ ہوں اور جوش سے اور حسب ضرورت بلکہ زائد از ضرورت کام نہ کریں تو لڑائی میں شکست یقینی ہے۔ان کے بغیر سپاہی قیدی ہے، مقتول ہے، فاتح اور غالب نہیں پس آپ کا کام مبلغوں سے کم نہیں۔مبلغ اپنی جگہ پر لڑتا ہے آپ لوگ ساری دنیا میں تبلیغ پھیلانے کا ذریعہ بنیں گے۔پس اپنے کام کو وسیع کریں اپنے نفع کو کروڑوں، اربوں اور پھر کھربوں تک پہنچائیں تا کہ سینکڑوں سے ہزاروں اور ہزاروں سے لاکھوں مبلغ مقرر ہوں اور کروڑوں کے بعدار بوں ٹریکٹ اور کتب ہر سال شائع اور تقسیم ہوں۔اپنے حوصلہ کو بلند کریں، چھوٹی کامیابیوں پر خوش نہ ہوں ، دنیا کی فتح اپنا مقصود بنا لیں۔دنیا کو دنیا نے اپنے لئے ہزاروں سال کمایا ہے اب کیوں نہ سب تجارت اور صنعت دین کے لئے فتح کر لی جائے تا کہ یہ ذاتی جھگڑے بالکل ختم ہو جائیں۔کمیونسٹ قوم کے لئے لیتے ہیں اور اس طرح ذاتی لڑائی کو قومی لڑائی میں بدل دیتے ہیں اور چونکہ قو میں نہیں بدلتیں لڑائی کی بنیاد ہمیشہ کے لئے قائم کر دیتے ہیں لیکن ہم اگر تجارت و صنعت کو مذہب کے لئے جیت لیں گے تو لڑائی کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائیگا۔کیونکہ مذہب بدل سکتا ہے اور اسلام تبلیغی مذہب ہے۔جب سب لوگ ایک مذہب کے ہو جائیں گے اور تجارت مذہب کے ہاتھ میں ہوگی تو دین و دنیا ایک ہی ہاتھ میں جمع ہو کر لڑائی کا خاتمہ کر دیں گے۔مطالعہ وسیع کریں صرف ایک تاجر نہیں ایک ماہر اقتصادیات کا درجہ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔صرف ہندوستان اور انگلستان کے درمیان ہی تجارت وسیع کرنے کا سوال نہیں اپنے مغربی مشنوں سے تبادلہ خیالات کر کے وہاں تجارت کو وسیع کیا جا سکے تو اسے بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ہماری غرض عقل کے ساتھ سوچ کرساری دنیا کی تجارت پر قبضہ کرنا ہے اور کوشش کرنا ہے کہ تبلیغ اسلام اور بنی نوع انسان کی بہتری کے لئے اس قدر روپیہ کما لیں کہ رو پید اور مال کی وجہ سے کسی کو تکلیف نہ ہوصرف سماوی آفات رہ جائیں ، ارضی آفات کا خاتمہ ہو جائے اور سماوی آفات دل کی اصلاح سے دور ہو سکتی ہیں۔ان کا دور کرنا آسان ہے کہ اس کا رو کنا رحیم وکریم