سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 172
168 -1 کا اجراء یقیناً کالج کے لئے اِنْشَاءَ اللهُ مفید ثابت ہوگا لیکن آپ لوگوں کو یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ صرف رسالہ کے اجراء سے کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک کہ محنت کرنے اور علم کو بڑھاتے رہنے کی آپ لوگ کوشش نہ کریں۔خالی مضمون ہر ایک شخص لکھ سکتا ہے لیکن اس کوشش میں بہت کم لوگ کامیاب ہوتے ہیں کہ ایسا مضمون لکھیں جو دوسروں کے لئے زیادتی علم کا موجب ہو حالانکہ اصل مضمون وہی ہے جو اپنے اندر کوئی نئی بات رکھتا ہو۔پس میں آپ کو نصیحت کروں گا کہ آپ اپنے رسالہ میں ہمیشہ کوشش کر کے مضمون لکھیں اور ان امور کو مدنظر رکھیں۔ایسے مضمونوں کو منتخب کریں جو واقعہ میں مفید ہوں اور صرف ذہنی دلچسپی پیدا کرنے کی کوشش نہ کی گئی ہو۔-۲- ہمیشہ اس امر کو مدنظر رکھیں کہ مضمون کی طبعی تر تیب قائم رکھی جائے تا کہ پڑھنے والے کے اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے۔۔ہمیشہ مضمون میں ایسے پہلو پیدا کرنے کی کوشش کریں جو اس سے پہلے زیر بحث نہ آئے ہوں۔۴۔ہمیشہ ایسے امور پر بحث کریں جن سے ذہن میں وسعت پیدا ہوا اور تنگ ظرفی اور کج فہمی پیدا کرنے والے نہ ہوں۔۵- ہمیشہ یہ کوشش کریں کہ تقویٰ کا دامن نہ چھوٹے۔اپنے خیال کو ثابت کرنے کے لئے کبھی جھوٹے استدلال کو کام میں نہ لاویں۔-4 ۶ - اگر کسی امر میں اپنی غلطی معلوم ہو تو اس کے اقرار کرنے سے دریغ نہ ہو۔ے۔جن لوگوں کو آپ سے پہلے علم پر غور کرنے کا موقع ملا ہوا ان کے غور و فکر کے نتائج کو مناسب درجہ دیں۔لیکن :- - یہ یادر ہے کہ انسانی علم کی ترقی کبھی مسدود نہیں ہوسکتی مگر ساتھ ہی یہ امر بھی ہے که: ۹۔علم کے جس مقام پر اب دنیا ہے وہ پہلوں کی قربانی کا ہی نتیجہ ہے اگر وہ نہ ہوتے تو ہم بھی اس مقام پر کھڑے نہ ہوتے پس ان کی غلطیاں ہی ہماری اصابت رائے