سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 173
169 کا موجب ہیں۔(رسالہ جامعہ احمد یه سالنامه دسمبر ۱۹۳۰ء صفحه ۱) تعلیم الاسلام کالج مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ دینی علوم کی ترویج و اشاعت میں مہتم بالشان کام کر رہے تھے۔حضرت مصلح موعود نے مروجہ علوم کو عام کرنے اور احمدی نوجوانوں کی بہتر تعلیم و تربیت کی غرض سے ۱۹۴۴ء میں تعلیم الاسلام کالج جاری فرمایا اور اس کالج کے قیام کی اغراض بتاتے ہوئے فرمایا : - اس کالج کے قائم کرنے سے ہماری ایک غرض یہ ہے کہ ہمارے نو جوانوں کا ایک ایسا طبقہ تیار ہو جو احمدیت کی تعلیم کے ماتحت علم حاصل کرے اور ان کے کانوں میں دین کی باتیں پختہ ہو کر وہ ایسے رنگ میں کتابوں کا مطالعہ کریں جس کے نتیجہ میں جو بات اسلام کے مطابق ہو اس کو وہ اخذ کریں اور جو بات اسلام کے مخالف ہو اس کو رد کر دیں اور ہمارے پروفیسر طلباء کی ذہنیت اسی رنگ میں بدل دیں کہ وہ خدا تعالیٰ کا وجود، بعث بعد الموت وغیرہ اسلامی مسائل ہر علم کو سامنے رکھتے ہوئے دوسرے لوگوں کے سامنے پیش کرسکیں اور ہر ایک رنگ میں دین کے ماتحت رہتے ہوئے اسلام کی تائید کے لئے علم حاصل کریں۔“ 66 (الفضل ۱۱۔دسمبر ۱۹۴۴ء صفحه ۲ ) نوجوان طلبہ کی اچھے ماحول میں تعلیم کے فوائد بھی حضور کے مدنظر تھے آپ فرماتے ہیں :- اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ہمارا اپنا ایک کالج ہو۔حضرت خلیفہ المسیح کی بھی یہ خواہش تھی۔کالج ہی کے دنوں میں کیریکٹر بنتا ہے۔سکول لائف میں تو چال چلن کا ایک خاکہ کھینچا جاتا ہے اس پر دوبارہ سیا ہی کا لج لائف ہی میں ہوتی ہے پس ضرورت ہے کہ ہم اپنے نو جوانوں کی زندگیوں کو مفید اور مؤثر بنانے کے لئے اپنا ایک کالج بنا ئیں۔پس تم اس بات کو مدنظر رکھو۔میں بھی غور کر رہا ہوں“ (انوار العلوم جلد ۲ صفحه ۵۱) اس کالج کے پہلے پرنسپل حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب مقرر ہوئے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کالج نے ہر میدان میں بہت اچھا نام پیدا کیا۔اخبار الفضل ۸۔جنوری ۱۹۴۵ ء کی۔ایک رپورٹ کے مطابق تعلیم الاسلام کالج کو پہلے ہی سال پورے صوبہ بلکہ پورے ملک میں بلند