سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 150 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 150

146 جواب دے دیا ہے۔اگر آپ کا کوئی اور مطلب ہو تو اطلاع دیں۔والسلام (الحام ۲۸۔جنوری ۱۹۲۴ء صفحه ۳ ) خدائی تائید اور باطنی علوم کے متعلق ساری دنیا کے علماء کو چیلنج کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :- ہم میں سے کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہے جو اپنے ایمان کے مطابق کہہ سکتا ہو کہ وہ اپنے ذاتی علم کی وجہ سے کام کرتا ہے اور اپنے متعلق تو میں یہاں تک کہتا ہوں کہ جو کام خدا تعالیٰ مجھ سے کراتا ہے اس کے متعلق میں اپنے اندر ذرا بھی طاقت نہیں پاتا۔میں نے مڈل کا امتحان دیا تو اس میں فیل ہو گیا انٹرنس کا امتحان دیا تو اس میں بھی فیل ہو گیا۔بسا اوقات گھر کی عورتیں تک کہہ دیتی تھیں کہ یہ کیا امتحان پاس کرے گا۔ایک بھی سند نہیں دنیا کے علم کی جو پیش کر سکوں مگر میں نے خدا تعالیٰ کے فضل کے ما تحت بار ہا چیلنج دیا ہے کہ کوئی شخص دنیا میں ہو جو احمدی نہ ہو، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے فیض یافتہ نہ ہو، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نہ ماننے والا یا آپ کا درجہ گھٹانے والا ہو وہ آئے اور قرآن کریم کا کوئی رکوع قرعہ کے ذریعہ نکال کر اس کی تفسیر لکھے۔اگر میں نئے معارف اور حقائق اس سے بڑھ کر بیان نہ کروں تو مجھے جھوٹا سمجھا جائے ورنہ وہ حق کو مان لے۔مگر دنیوی علم کی کوئی سند میرے پاس نہیں ہے۔جب میں پرائمری میں پڑھتا تھا تو مدرسوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے میری شکایت کی کہ یہ کچھ نہیں پڑھتا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔اس نے کیا نوکری کرنی ہے۔حضرت میر صاحب ( نانا جان ) مرحوم نے خدا تعالی بڑی بڑی رحمتیں ان پر نازل کرے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک دفعہ آ کر کہا محمود نے تو ابھی تک کچھ سیکھا ہی نہیں ، اسے کچھ آتا ہی نہیں، ان کی یہ باتیں میں بھی سن رہا اور کانپ رہا تھا کہ نہ معلوم اب کیا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔مولوی صاحب (حضرت خلیفہ اول ) کو بلا ؤ۔جب وہ آئے تو کہا