سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 139
139 حضرت فضل عمر کا علمی ذوق اللہ تعالیٰ نے حضرت فضل عمر کو غیر معمولی قابلیتوں اور ظاہری و باطنی علوم سے نوازا تھا۔آپ کی معلومات کی وسعت کا صحیح اندازہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔قرآن مجید سے آپ کا غیر معمولی قلبی تعلق تو آپ کی تقریر وتحریر سے عیاں ہے، کلام اللہ کے مقام و مرتبہ کا اظہار و بیان آپ کی ہزاروں صفحات پر مشتمل تصانیف ( جو اپنوں اور غیروں سے خراج تحسین حاصل کر چکی ہیں ) نہایت حسن و خوبی سے کرتی ہیں ، آپ کی بے شمار تقاریر اور خطبات کے عنوانات بے مثال حیرت انگیز تنوع رکھتے ہیں۔اکثر تقاریر میں مذہبی علوم اور فلسفہ الہیات بیان ہوا ہے، بعض تقاریر مذاہب کے تقابلی مطالعہ پر بصیرت افروز روشنی ڈالتی ہیں ، بعض تقاریر میں مختلف اقتصادی نظاموں کا موازنہ کر کے قرآنی نظامِ اقتصاد کی فضیلت و برتری ثابت کی گئی ہے۔بعض کتب و تقاریر میں سیاست و مدنیت کے مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل تبصرے کر کے قرآنی ہدایت کی عظمت ظاہر کی گئی ہے غرضیکہ ہر ضروری علم اور مضمون پر آپ کی ٹھوس معلومات پر مشتمل کتب و تقاریر آپ کے مخصوص و منفر د نهایت سلیس و ساده مگر موثر و دلنشین انداز پر روشنی ڈالتی ہیں۔اس قدر متنوع عنوانوں کے مختلف ممکنہ پہلوؤں پر بحث کرتے ہوئے مفید علمی مواد اور دلچسپ انداز بیان آپ کی خداداد قابلیت اور وسعت مطالعہ کا بین ثبوت ہے۔حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کے بیان کے مطابق۔حضرت فضل عمر نے صدر انجمن احمدیہ کا موجودہ نہایت کامیاب نظام جاری فرمانے سے قبل انسانی جسم کی بناوٹ کے متعلق تخنیم طبی کتب کا مطالعہ فرمایا تا کہ دل و دماغ اور جوارح کا باہم تعلق معلوم کر کے اس نظام سے استفادہ کرتے ہوئے جامع اور نقائص سے پاک انتظام جاری کیا جا سکے۔آپ اپنی زندگی کے ابتدائی ایام سے ہی جبکہ آپ کو بہت ہی محدود جیب خرچ ملتا تھا اپنے ذوق مطالعہ کی