سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 110 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 110

110 زیادہ گھبرا جانے کی حالت میں روپڑتی تھی۔آخر دل میں خیال آیا کہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو دعا کے لئے لکھوں۔جب دل میں یہ خیال آیا نو دس بجے رات کا وقت تھا۔اسی وقت میں نے ایک نہایت ہی گھبراہٹ اور کرب کا خط حضور کی خدمت میں لکھا کہ دعا فرمائیں۔خدا تعالیٰ مجھ کو اس مرض سے نجات بخشے۔جب میرے خط کا جواب حضور کی طرف سے آیا کہ دعا کی گئی ہے مجھ کو اس وقت بالکل آرام تھا اور میری صحت ایسی تھی کہ گویا کوئی مرض تھا ہی نہیں۔سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمَ۔شکر ہے مہربان خدا کا لاکھ لاکھ بار جس نے مجھ پر اتنا فضل وکرم کیا۔اس واقعہ کوکئی ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے کہ میں نے کبھی اس مرض کی حرارت اپنے بدن میں محسوس نہیں کی اور آئندہ کے لئے بھی مجھ کو خدا کے فضل وکرم سے ایسا یقین ہے جیسے پتھر پر لکیر بلکہ اس سے بھی زیادہ کہ پھر مجھ کو یہ مرض کبھی بھی نہ الفضل ۲۔جنوری ۱۹۴۳ ء صفحه ۵ ) ہوگا۔