سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 111
111 مخالفوں سے حُسن سلوک رحمۃ للعالمین کے فدائی اور سچے عاشق کا طرز عمل کتنا دلکش ہے کہ اسلامی اخلاق سے مرضع آپ کے دامن پر عفو وستاری اور رحم و محبت کے نمایاں نشانات اور خوبصورت نقش و نگار تو بکثرت جلوہ فگن ہیں لیکن نفرت، بغض ، بے جا دشمنی ، حسد اور ایسے ہی دوسرے اخلاق رذیلہ کا کوئی بدنما داغ اور دھبہ ہرگز ہرگز نہیں پایا جاتا۔آپ فرماتے ہیں :- د میں دیانتداری سے کہہ سکتا ہوں کہ لوگوں کے لئے جو اخلاص اور محبت میرے دل میں میرے اس مقام پر ہونے کی وجہ سے ہے جس پر خدا نے مجھے کھڑا کیا ہے اور جو ہمدردی اور رحم میں اپنے دل میں پاتا ہوں وہ نہ باپ کو بیٹے سے ہے اور نہ بیٹے کو باپ سے ہوسکتا ہے“ (الفضل ۴۔اپریل ۱۹۲۴ء صفحہ ۷ ) اسی کیفیت اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :- میں کسی کا بھی دشمن نہیں گو ساری دنیا میری دشمن ہے مگر مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔اس میں میرے لئے خدا تعالیٰ کے عفو اور غفران کی علامت ہے کیونکہ جو کسی کا دشمن نہ ہو پھر بھی اس سے دشمنی کی جائے تو خدا تعالیٰ اس کے گناہوں کو بخشنے کیلئے تیار ہوتا ہے“ الفضل ۱۷۔جنوری ۱۹۴۵ ء صفحه ۶) اسی سلسلہ میں آپ بڑے وثوق اور یقین کے ساتھ یہ اعلان فرماتے ہیں کہ : - میں مانتا ہوں کہ اختلاف کلی طور پر نہیں مٹ سکتا مگر میرے دل میں کبھی کسی ہندو، سکھ یا عیسائی کے لئے نفرت پیدا نہیں ہوئی۔میں اس معاملہ میں یہاں تک تیار ہوں کہ اپنے بچوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر حلفا کہہ سکتا ہوں کہ میں نے کبھی کسی ہندو، عیسائی یا سکھ کو نفرت کی نگاہ سے نہیں دیکھا میری عمر اس وقت ۴۷ سال ہے مگر اس