سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 101
101 شکر کا مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف وکرم سے ۷ مئی عاجز کو ایک لڑ کا عطا فرمایا ہے جس کا نام حضور نے رشیدالدین تجویز فرمایا۔الفضل ۲۶۔جون ۱۹۳۴ ء صفحه ۲) مکرم فیض عالم صاحب ڈھا کہ قبولیت دعا کا ایک نہایت ایمان افروز نشان بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- خدا تعالیٰ کے مقدس بندوں کی ہر بات ایمانداروں کے لئے ایک نشان اور حق کے متلاشیوں کے لئے ایمان افروز غذا کا کام دیتی ہے۔محبوب حقیقی کے ناز پروردہ قبولیت دعا میں بالخصوص بے نظیر ثابت ہوتے ہیں۔ذیل میں اسی امر کی صداقت میں میں ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔۔۔۔۔اور حلفاً بیان کرتا ہوں کہ یہ واقعہ بالکل صحیح ہے۔میری اہلیہ قریبا پانچ چھ سال امراض نسوانی میں سخت مبتلا رہی۔بہت سے قابل ڈاکٹر۔لیڈی ڈاکٹر و نرس اور دیسی دائیوں سے علاج کروانے کے علاوہ ڈیڑھ مہینہ لدھیانہ ہسپتال میں بھی زیر علاج رہی۔اس کے علاوہ حکیموں اور خاص کر ہمارے خاندان کے ایک حکیم سے جو مہا راجہ کشمیر کے شاہی حکیم رہ چکے تھے، علاج کروایا گیا اور ایک دفعہ آپریشن بھی ہوا مگر سب کے سب بے سود بلکہ بیماری ترقی پذیر رہی اور ہر ایک دورہ پہلے دورہ سے شدید گویا مریضہ موت کے منہ سے واپس ہوتی تھی۔میں چونکہ بنگال میں ملازم ہوں اس لئے کلکتہ اور بنگال کے بعض اور شہروں سے ڈاکٹروں و نرسز کے مشورے لئے گئے۔۱۹۳۶ء کے آغاز میں ایک میرے ہمسایہ افسر کی بیوی نے ایک شیشی دوائی جس سے وہ خود اسی بیماری سے شفا پا چکی تھی دی مگر مریضہ کی حالت اور خطرے میں ہوگئی۔گویا مرض دوا کی بڑھتا گیا جوں جوں ایک شام جب میں اپنی ڈیوٹی سے گھر آیا تو اپنی اہلیہ کو نہایت بیدردی سے روتے پایا۔پوچھنے پر جواب دیا یوں تو خدا جس حال میں رکھے شکر ادا کرنا چاہئے مگر مایوس زندگی بھی کوئی زندگی ہے۔میں نے کہا خدا تعالیٰ کی رحمت سے انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔اس کے بعد ہم دونوں نے وہاں بیٹھے بیٹھے یہ