سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 80
80 سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوا اور مشکلات دُور ہو گئیں۔مکرم محمد رفیع صاحب سب انسپکٹر سندھ جنہیں لمبا عرصہ بطور امیر جماعت خدمات بجالانے کا شرف حاصل ہوا وہ قبولیت دعا کے متعلق اپنا تجربہ بیان کرتے ہیں کہ کس طرح حضور کی خدمت میں دعا کی درخواست پہنچنے سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوا اور جاں بلب بچہ محض خدا تعالیٰ کے فضل سے صحت یاب ہو گیا۔آپ لکھتے ہیں کہ : - ۱۹۳۰ء میں میرالڑ کا خونی اسہال سے سخت بیمار ہو گیا۔ڈاکٹر اور حکیم علاج سے عاجز آگئے۔اور بچہ چند گھڑیوں کا مہمان نظر آنے لگا۔بچہ کی حالت نازک دیکھ کر میں نے حضرت (خلیفتہ المسیح الثانی) کی خدمت میں دعا کے لئے تار دیا۔تار کا دینا تھا کہ خدا کے فضل سے بچہ کو صحت ہونی شروع ہو گئی اور تھوڑے ہی دنوں میں وہ اچھا ہو گیا۔“ الفضل ۲۸ دسمبر ۱۹۳۹ء صفحه ۵۲) مکرم غلام حسین صاحب بی۔ای۔ایس پینشنز نے قبولیت دعا اور تعلق باللہ کا عجیب نظارہ دیکھا۔قرب و محبت کے اس نظارہ کو بیان کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں :- میں اپنے مشاہدات کی بناء پر جو ایک نہیں بلکہ کئی ہیں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے اکثر حالات جوا بھی سر بستہ راز ہوتے ہیں حضور پر کھولے جاتے ہیں ابھی چندروز کا واقعہ ہے کہ میں نے پچیس روپے حضور کی نذر کرنے چاہے مگر حضور سندھ تشریف لے گئے میں بیمار اور صاحب فراش۔میں نے وہ رو پیدا لگ کر کے بطور امانت رکھ دیا۔تاکہ اور روپے کے ساتھ خرچ نہ ہو جائے۔اچانک محاسب صاحب کی استفساری پیٹھی پہنچی کہ حضور نے سندھ سے بذریعہ فون دریافت فرمایا ہے کہ آیا میں نے کوئی روپیہ حضور کی امانت فنڈ میں جمع کرایا ہے۔میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ یہ نذراس مالک حقیقی کے حضور قبول ہو گئی۔الفضل ۲۸۔دسمبر ۱۹۳۹ء صفحہ ۵۱ ) حضرت برکت علی خانصاحب جماعت شملہ کے امیر اور معزز سرکاری عہدہ پر فائز تھے۔آپ کو اہم جماعتی خدمات کی توفیق ملی اور حضور نے متعدد مرتبہ ان کے کام کی تعریف فرمائی۔وہ غیر معمولی بلکہ مخالفانہ حالات میں ملازمت میں ترقی حاصل کرنے کا روح پرور واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :-