سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 79
79 ہوئے ابی کرتا ہے۔کبھی انسان دوسرے سے دعا کی تحریک کرتے ہوئے اس لئے رکتا ہے کہ اس کے دل میں مخفی تکبر ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس طرح میری ہتک ہو جائے گی۔گو ظاہر میں محسوس نہ ہو مگر مخفی تکبر ضرور ہوتا ہے۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان جس شخص سے دعا کرانا چاہتا ہے اس کے متعلق شیطان اسے دھوکا دے دیتا ہے کہ میرے پاس اس سے دعا کرانے کا ذریعہ نہیں ہے۔میں ایسا مقبول نہیں ہوں کہ میرے لئے کوئی دعا کرے۔یا یہ کہ میں اس کے وقت کو کیوں ضائع کروں میری تو معمولی ضروریات ہیں اور اس کا وقت قیمتی ہے ایسے وساوس سے بھی انسان محروم رہ جاتا ہے۔ایک اور باعث بھی ہوتا ہے اور اس میں انسان کا دخل نہیں ہوتا۔وہ یہ کہ شامت اعمال کی وجہ سے جب اللہ تعالیٰ اس کو فوائد سے محروم رکھنا چاہتا ہے۔تو وہ اس ذریعہ سے اس شخص کی توجہ کو پھیر دیتا ہے۔جس سے وہ اپنے مطلب کو حاصل کر سکتا ہے۔اگر پہلے بیان کردہ امور میں سے کوئی وجہ نہیں تو آخری ضرور ہے۔“ یہ خط ( جو ۲۲ مئی ۱۹۲۲ء کے الفضل“ میں شائع کیا گیا پڑھتے ہی مجھے خیال آیا کہ ان شقوں میں سے کسی نہ کسی کے نیچے میں ضرور آتا ہوں اور اسی وقت میں نے اولاد کے لئے درخواست دعا لکھ کر حضور کی خدمت میں پیش کی۔اس کے تھوڑے ہی عرصہ کے بعد بالکل غیر معمولی طور پر ایسی علامات ظہور پذیر ہونے لگیں جن کے صادق ہونے کا یقین نہ آتا تھا اور آخر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ۲۳۔جولائی ۱۹۲۳ء کو شادی سے ساڑھے آٹھ سال بعد لڑ کی عطا فرمائی۔اس کی ولادت کی اطلاع جب میں نے حضور کو دی اور نام تجویز کرنے کی درخواست کی تو حضور نے کنیز احمد نام تجویز کر کے تحریر فرمایا۔اللہ تعالیٰ مبارک کرے اور آئندہ فضلوں کا پیش خیمہ بنائے۔“ اس دعا نے گویا میرے لئے خدا تعالیٰ کے مزید فضلوں کا دروازہ کھول دیا۔اور دینی و دنیوی لحاظ سے میں نے اپنے اوپر خدا تعالیٰ کے اس قدرا فضال دیکھے اور دیکھ رہا ہوں۔جن کا شمار بھی مشکل ہے۔یہ حضرت (خلیفہ المسیح الثانی ) کی قبولیت دعا کا ایک کرشمہ ہے جو مجھ سے متعلق ہے۔الفضل ۲۸۔دسمبر ۱۹۳۹ء صفحه ۵۳) جماعت میں اس قسم کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں کہ احباب جماعت نے نہایت مشکل اور اضطراب کی حالت میں حضور کی خدمت میں دعا کے لئے لکھا اور حضور کی خدمت میں درخواست پہنچنے